خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 214 of 660

خطابات نور — Page 214

تم اسے خندہ اور خوش دیکھ سکتے ہو مگر اندرسے دکھ اسے ملامت کا نشانہ بنا رہے ہیں۔یا د رکھو خوشی کا چشمہ قلب پھر عقل ، پھر حواس ہیں اس کے بعد جسم میں خوشی ہوتی ہے مگر جو لوگ غموں میں مبتلاہوں ان کو حقیقی خوشی نہیں ہوا کرتی۔میں تم کو ایک بچہ کا قصہ سناتا ہوں کیونکہ تم بھی بچے ہو مگر وہ عمر میں تم سب سے چھوٹا تھا اس کا نام یوسف ؑہے جس وقت بھائیوں نے اسے باپ سے مانگا اور چاہا کہ اسے باپ سے الگ کردیں اور جنگل میں جاکر ایک کنویں میں اتار دیا۔اب تم سمجھ سکتے ہو کہ اس کی کیا عمر تھی۔اگرچہ وہ چھوٹا تھا اور ناواقف تھا مگر پھر بھی اوروں کی طرح باپ سے الگ ہونے اور نکالے جانے کا اسے علم تھا اور یہ جانتا تھا کہ اس سے دکھ ملتا ہے ذرا سوچو تو جب ایک بچہ کو اس کی ماں سے الگ کیا جاتا ہے تو بچہ کا کیا حال ہوتا ہے۔پھر بچے ہوّئے کے نام سے دب جاتے ،سہم جاتے ہیں اور اس کو وہ تاریک کنواں دکھایا جس میں اسے اتارا گیا۔نہ اس وقت کوئی یار نہ آشنا نہ ماںاور نہ باپ اگر ہوتے بھی تو اسے وہ بات نہ بتلا سکتے جو خدا نے بتائی اور ان کو کیا علم تھا کہ اس کا انجام کیا ہوگامگر خدا کا سایہ اس پر تھا۔خدا نے اسے بتلایا (یوسف:۱۶) کہ ا ے یوسف! دیکھ تجھے باپ سے الگ کیا تیری زمین سے تجھے الگ کیا اور اندھیرے کوئیں میں ڈالا۔مگر میں تیرے ساتھ ہوں گا اور اس علیحدگی کی تعبیر کو تو بھائیوں کے سامنے بیان کرے گا اور ان کو اس بات کا شعور نہیں ہے۔دیکھ لو یہ باتیں باپ نہیں کر سکتا نہ وعدہ دے سکتا ہے کہ یوں ہوگا۔یا جاہ و جلال کے وقت تک یہ تندرستی بھی ہوگی ایک باپ بچے سے پیار تو کر سکتا ہے مگر وہ اس کے آئندہ کی حالت کا کیا اندازہ لگا سکتا ہے ان باتوں کو جمع کر کے دیکھو اگر کوئی انسان تسلی دیتا تو بچہ کو پیار کرتا گلے میں ہاتھ ڈالتا اور اسے کہتا کہ ہم چی جی دیویں گے۔مگر خدا کی ذات کیا رحیم ہے وہ فرماتا ہے ہم وہ عروج دیویں گے کہ تو ان احمقوں کو بتلادے گا۔یہ حقیقت ہے اس سایہ کی جسے میںچاہتا ہوں تم پر ہو۔علوم کی تحصیل آسان ہے مگر خدا کے فضل کے نیچے اسے تحصیل کرنا یہ مشکل ہے۔کالج کی اصل غرض یہی ہے کہ دینی اور دنیوی تربیت ہو مگر اول فضل کا سایہ ہو، پھر کتاب ،پھر دستورالعمل ہو اس کے بعد دیکھو کہ کیا کامیابی ہوتی ہے۔فضلِ الٰہی کے لئے پہلی