خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 206 of 660

خطابات نور — Page 206

انقباض میں ارادہ ہے۔کہا نہیں یہ کوئی غیر معلوم سبب ہے۔میں نے کہا۔کیا اس غیر معلوم سبب میں ارادہ ہے۔کہا نہیں اس کو کوئی گریٹ پاور دھکا دیتی ہے۔میں نے کہا کیا اس پاور میں ارادہ ہے تو سر نیچا کرلیا۔اس پر مہاراج کہنے لگے پھر اسی گریٹ پاور کو مولوی صاحب اللہ کہتے ہیں اور ہم پرمیشر کہتے ہیں۔پھر سچے دہریہ اور سچے فلسفی حقیقت میں خدا کے منکرنہیں ہوتے ایک زبر دست طاقت کا خیال ضرور دل میں ہوتا ہے۔پس باوجود اختلاف کثیر کے اگر ہم اتفاق پیدا کر سکتے ہیں تو پھر دوسری ہستی کا سرور دل میں پیدا ہو جاتا ہے اور اس کے قوانین پر عمل کرنا اور دوسری چیز سمجھنا یہی اس کی ہستی کا سرور ہے وہ ہمارے اندر سے اندر کے رازیعنی (طٰہٰ:۸)۔یعنی چھپی سے چھپی باتوں کو جانتا ہے اس وقت ہمارے اندر کیا ہے اگر کوئی بچہ سے بچہ اس وقت کہہ سکتا ہے کہ تم اپنے حال سے اس وقت واقف ہو کہ تمہارے دل میں کیا ارادہ ہے۔پھر ایک گھنٹہ کے بعد۔ایک سال کے بعد، دس برس کے بعد، اس کے اندر کیا ارادہ ہو گا۔بعد ایک ایسا راز ہے کہ مجھ سے ضرور مخفی ہے۔پس ایسے اندرونی حالات کو جاننے والابے وقت وقتوں میں جو خیال آویں گے ان کو بھی وہ ایسا جانتا ہے جیسے کہ اس وقت کے خیالات کو جانتا ہے پھر باوجود اختلاف کے ا س طاقت پر بھی یہ ایمان لاوے اور اس کا یقین کرے۔اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ جس طرح ہم اپنے حاکم کو حقیقت شناس اور رعایا کا پاس دار سمجھتے ہیں اسی طرح اگراس طاقت پر یقین ہو تو بڑ ی بڑی کٹھن منزلیں حل اور آسان ہو سکتی ہیں اس سے یہ بھی یقین ہوگا کہ کبھی میرا دشمن مجھ سے زبردست ہو سکتا ہے کہ نہیں۔اس سے ہزاروں قسم کی نادانیوں، غلط کاریوں، تکبروں ، نخوتوں کے دور کرنے کا مجرب نسخہ مل جاوے گا۔میں ہمیشہ اپنے محسنوں کا ذکر کیا کرتا ہوں اور کروں گا کیوں کہ مجھے اس سے خوشی ہوتی ہے میں نے اپنے ایک پیر سے کہا کہ مجھے کوئی ایسا طریقہ بتلائو کہ تمام دکھوں سے بچنے کے واسطے بڑا ہتھیار پیدا کر سکوں فرمایا۔ہاں خدا کا دھیان۔اگر ہم کبریائی سے چلتے ہیں تو ذرہ سوچیں چیز تو اُسی کی۔ایک شخص بڑے تکبر سے اپنے افسر سے کسی ایسے حکم پر دستخط کرانے گیا جو اس کے مفید اور اس کے دشمن کے خلاف تھا مگر قلم ہاتھ میں رہی اور جان نکل گئی۔ایسے آدمی بھی میں نے دیکھے ہیں کہ کسی