خطابات نور — Page 207
کو مارنے کے لئے ڈنڈا اٹھایا اور وہیں جان نکل گئی۔ایک رئیس کو میں نے ایک مجلس میں ناچتے ہوئے دیکھا جب گھر پہنچا تو سنا کہ وہ رئیس مر گیا ہے۔پس کیا پیاری بات ہے کہ خدا کا دھیان ہو اور اسی ہستی کا خوف دل میں نگران ہو۔میں دیکھتا ہوںکہ میری عمر کا ایک وہ حصہ تھا کہ سلطنت ایسی وسیع نہ تھی اگر ہم لوگوں کو اس وقت لاہور سے کوئی چیز منگوانی ہوتی تو بڑا روپیہ خرچ کرنا پڑتا تھا اور میرے والد چونکہ میری تعلیم کے بہت خواہشمند تھے وہ میرے لئے اکثر چیزیں لاہور سے منگواتے اور بڑی دقتوں سے منگواتے۔۱؎ اب ایسا زمانہ ہے کہ ایک مسافر پشاور سے سو رہے اور کلکتہ تک سوتا ہی چلا جاوے۔میںنے ایک دفعہ چار کا رڈ منگوائے عدن، سیلون ،چین اور لندن لکھ دیئے۔میںنے سجدہ ٔ شکر کیا کہ ایک بادشاہ کے اتحاد سے ہم کو کتنا آرام مل گیا ہے کہ ہم ساری دنیا کی خبر آسانی سے گھر بیٹھے منگواسکتے ہیں اور گھر بیٹھے بیٹھے ہم کن کن دور دراز کے دوستوں سے ملاقات کر سکتے ہیں حسد اور بخل کا دل مطبع اور کاغذ نے نکال کر پھنک دیا ہے۔دس ورق کی کتا ب کی پہلے کیا قیمت تھی اور اب کیا ہے پھر جس طرح اس سلطنت سے اتحاد کر کے ہم نے فائدہ اٹھایا ہے اس طرح وہ طاقت جس کے ہاتھ میں ہمارے دکھ، سکھ ،موت، حیاتی رکھی ہوئی ہے اس پر ایمان لا کر یعنی اس سے اتحاد کر کے انسان کبھی غضب ، تکبر میں نہ پڑگیا اور ہزاروں بیماریوں کا خود علاج بن جاوے گا۔یہی اس جلسہ کے حاضرین اگر ایک امر مشہودہ میں کوشش کریں تو مباحثات کا موقع نہ ملے۔یہ میرا تجربہ ہے کہ کبھی انسان کسی نیک کام یا نیک خیال میں لگا ہوا ہوتا ہے کہ یک دم اس کا خیال بدی کی طرف راغب ہو جاتا ہے اور کبھی کسی بدی میں مصروف ہوتا ہے کہ فوراًنیک کام کی تحریک ہوتی ہے کبھی دوسرے پر رحم۔کبھی سلوک اور کبھی محبت کرنے کو تیار ہو جاتاہے اور کبھی اس میں ریا اوردنیا طلبی آجاتی ایسے خیالا ت کو ہمارے شریعت کی اصطلاح میں ملائکہ یا شیاطین کی تحریک نام رکھتے ہیں۔گو یہ اصطلاحی نام ہے مگر ایسا واقع ضرور ہوتا ہے پھر اگر ہم نیکی سے اتفاق کریں۔جیسے ایک بچہ کو پہلے پتنگ چڑھانے میں تکلیف تو ضرو ر ہوتی ہے پر جب وہ دور چلا جاوے تو وہ خود بخود چڑھتا ہے اس طرح جب انسان نیکی میں قدم بڑھاتا تو پہلے ذرا تکلیف معلوم ہوتی ہے بعد