خطابات نور — Page 205
کرنے والا مجنون کہلاسکتا ہے مگر وہ برُا نہ مناوے۔میں آپ لوگوں میں چونکہ یہاں کا باشندہ نہیں تمیز نہیں کر سکتا کہ آ پ لوگ کس پایہ کے مسلمان، ہندو، آریہ، مقلّد ، غیر مقلّد، صوفی، سکھ، ظاہر پرست ہو۔کس قدر وہ لوگ ہیں جن کے خیال میں آتا ہے کہ اب تو آرام سے گزرتی ہے۔اب باوجود اس قدر ناواقفی کے کوئی مضمون چھیڑوںتو کیا؟مقلّدوں یا غیر مقلّدوںکی باتیں چھیڑوں یا مرزاکی باتیں کروں یا یہ کہ میں کس طرح قرآن اور انبیاء پر ایمان لایا ہو ں۔مگر یہ ایسے مسائل ہیں کہ آپ لوگوں کو میرے بیان سے اتفاق نہ ہوگا۔اگر خالص میرے اپنے لوگ ہوتے تو پھر اس اپنے عقائد کا وسیع میدان دیکھتا مگر جبکہ اتفاق اور اتحاد دیکھتا ہوں تو چاہیے کہ ایسی بات کروں جو نیک نیتی پر مبنی ہو۔پھر اسی لئے میں نے قرآن کریم کی ایک آیت ایسی پڑھی ہے جو ایسی مجلس کے مطابق حال ہے۔انسان کو خدا تعالیٰ نے یا دہرنے یا نیچر کے قویٰ نے، بہر حال کچھ بھی مختلف نام ہوں مگر ایک زبر دست طاقت کا اختیار دنیامیں ضروری اور لابدی مانا گیا ہے، جس نے پید اکیا۔ایک دفعہ مجھے ایک رئیس کے ہاں بیٹھنے کا اتفاق ہوا وہاں سفید چاندنی بچھی تھی اور نرم ہو ا چل رہی تھی اور وہ چاندنی بڑی نزاکت سے لہریں مار رہی تھی میں اس کے تماشا میں محو ہو گیا۔ہر ایک نظارہ ٔ قدرت کو پانچ آدمی دیکھتے ہیں۔بچہ اور مالی۔یہ ایک ادنیٰ نظارہ ہے۔پھر شاعر دیکھتا ہے وہ اس کودیکھ کر عجب عجب اشعار تراشتا ہے۔پھر ایک فلسفی دیکھتا ہے۔وہ اس کے تناقضات اتحاد اورسائنس کے مسائل بناتا ہے۔پھر صوفی خدا پرست دیکھتا ہے وہ اس میں اپنے مولیٰ کی قدرت اس کا جلال مشاہدہ کرتا ہے۔پھر میں بھی اس موج کو اپنے حال کے مطابق جس طرح کا تھا دیکھ رہا تھا یہ نظارہ میرے لئے ایک دلربا چیز بن گیا اسی محویت میں تھا کہ رئیس نے کہا کہ مولوی صاحب ہمارے اور ہمارے وزیر صاحب کے درمیان ایک تنازعہ ہے آپ اس کا فیصلہ کریں۔میں نے عرض کیا کیا ؟ جواب ملا کہ یہ صاحب ہستی باری کے منکر ہیں آپ ثبوت پیش کریں۔میں نے کہا کہ یہ چاندنی کی موجیں عمدہ ثبوت ہیں۔دونوں اس طرف متوجہ ہوئے۔میں نے کہا۔کیا یہ چاندنی اپنے ارادہ سے ناچتے ہیں کہا انہیں ہوا چلاتی ہے۔میںنے کہا کیا ہوا میں ارادہ ہے۔کہا نہیں اس کو انقباض چلاتا ہے۔میں نے کہا کیا