خطابات نور — Page 141
تو بتائو کہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کون وفادار اور صادق الوعد ہوسکتا ہے۔پس جب کہ یہ بات ہے تو پھر تم اپنی اسی بیع پر خوش ہوجائو اور یہی تو وہ اعلیٰ درجہ کی کامیابی ہے۔لوگوں نے بہت بڑی غلطی کھائی ہے اسلامی دفاعی جنگوں کے راز کے سمجھنے میں۔اور انہوں نے اسلام پر اعتراض کیا کہ وہ دین کے لئے تلوار اٹھانے کا حکم دیتا ہے۔حالانکہ اسلام کے لفظ میں صلح اور آشتی اور سلامتی کا مفہوم اور منطوق موجود ہے اور اسلام نے پکار پکار کر کہاہے (البقرۃ:۲۵۷)اور قرآن کریم میں ایک بھی آیت اس مضمون کی نہیں ہے کہ تم غیر مذہب والوں سے مسلمان بنانے کے لئے لڑو۔پھر خدا تعالیٰ جانے یہ لوگ کیوں ظلم اور زُور کی راہ سے اسلام پر افترا کرتے ہوئے خدا سے نہیں ڈرتے۔مسلمان کی تعریف ہمارے سید و مولیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کی ہے کہ مسلمان وہی ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے عام لوگ عامۃً اور مسلمان خاصۃً محفوظ رہیں۔غرض یہ افتراء ہے جو مسلمانوں پر کیا جاتا ہے۔ہاں توبات یہ تھی کہ یہ سچی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی وفادار نہیں ہے اور خدا تعالیٰ سے معاملہ کرنے سے بڑھ کر کوئی فوز عظیم نہیں ہے۔پاس فاز سے ہی بگڑ کر بنا ہے۔اب دیکھ لو کہ ایک مڈل پاس کرنے میں کم از کم سات آٹھ سو روپیہ خرچ ہوتاہے اور عمر کا ایک بہت بڑا حصہ اور قیمتی حصہ صرف ہوجاتا ہے۔اس کے بالمقابل دیکھو قرآن کے لئے کس قدر کوشش کی جاتی ہے اور کتنا وقت اس کو دیا جاتا ہے۔بعض وقت میںنے دیکھا ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے احکام کو جانتا ہے اورسنتا ہے مگر جب نفس جوش کرتا ہے تو پھر کسی کی بھی نہیں سنتا اور اس بات کی ذرا بھی پرواہ نہیں کرتا کہ میں تو مسلمان کہلانے کے ساتھ ہی اپنی جان اور مال سے بے دخل ہوچکا ہوں اور یہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ بیچ بیٹھاہوں۔پھر نفس کی خواہش اور آرزو کے پورا کرنے میں اپنے مال اور جان کا خرچ کرنا کیوں روا رکھتا ہوں۔مومن کا تو ہر فعل اللہ ہی کے حکم کے تابع ہونا چاہیے یہاں تک کہ اگر وہ کھاوے تو صرف اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے کلوا کا حکم دیاہے ، پیتا ہے تو اس لئے کہ اشربوا کا حکم ہے، بیوی سے معاشرت کرتا ہے تو صرف اس حکم کی تعمیل کی خاطر کہ (النساء :۲۰) کہا ہے۔پس جب کبھی وہ اپنے مال اور جان میں تصرف کرے تو جناب الٰہی کی اجازت کو تو دیکھ لے۔۱؎