خطابات نور — Page 140
اگر مسلمان مسلمان کہلا کر ایمان باللہ کا دعویٰ کرکے اللہ تعالیٰ کے احکام کا جو ا اپنی گردن پر نہیں رکھتا اور اپنی خواہش اور ارادے کو چھوڑ کر خدا تعالیٰ کی مرضی اور حکم کا پابند اور مطیع نہیں ہوتا تو اس کو اپنے اندر غور کرنا چاہیے کہ اسلام اور ایمان کے لوازم سے اس نے کیا لیا اور اس بات کا معلوم کرنا کہ آیا میں نے خدا تعالیٰ کے ہاتھ اپنی جان اور مال کو بیچ دیا ہے یا نہیں بڑی صفائی کے ساتھ ہوسکتا ہے اور بہت ہی آسان ہے۔اگر وہ اپنے ارادوں ، اپنی خواہشوں، اپنے دوستوں ، اپنی ملکی رسم ورواج قومی عادات اور شعائر اللہ کو مقدم کرتا ہے اور الٰہی قوانین اور فرامین کی اتنی بڑی پروا نہیں کرتا کہ رسم و رواج یا سوسائٹی اور برادری کے اصولوں پر اللہ تعالیٰ کی باتوں کو مقدم کرلے تو اس کو سمجھ لینا چاہیے کہ اس نے کچھ بھی نہیں بیچا یا کہوکہ مومن اور مسلمان کہلانے کے ساتھ اپنی جان و مال کو بیچ کر بھی اس پر ناجائز تصرف کیا ہے۔پس یہ بہت خطرناک اور نازک مقام ہے۔مسلمان یا مومن باللہ کہلانا آسان ہو تو ہو مگر بننا کارے دارد۔مسلمان بننے کا نمونہ ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں دیکھو۔ (البقرۃ :۱۳۲)۔پھر مسلمان بننے کا کامل نمونہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں مشاہدہ کرو۔غرض مومنوں کے جان و مال اللہ تعالیٰ نے خرید لئے ہیں اور اس کے معاوضہ میں وہ فوز عظیم اور وہ عظیم الشان ابدی راحت اور آسائش کا مقام اس نے دیا ہے جس کو جنت کہتے ہیں۔اب جب کہ مومن اپنے ایمان کے اقرار کے ساتھ اپنے جان اور مال بیچ چکے تو پھر اللہ تعالیٰ کی راہ میں ان کے خرچ کرنے سے مضائقہ کیا؟ مومن کو اگر اپنی جان تک دینے کی بھی نوبت آجائے تو اسے دریغ نہیں اس لئے کہ وہ اس پر اپنا اختیار ہی نہیں رکھتا وہ تو اسے دے چکا یہاں تک کہ (التوبۃ :۱۱۱)۔اگر یہ موقع بھی ان کو پیش آجائے کہ ان لوگوں کے مقابلہ میں جو ان سے لڑتے ہیں لڑنا پڑے تو وہ ہرگز نہیں جھجکتے۔یہ وعدہ حق ہے۔ا س کا پتا توریت اور انجیل سے بھی ملتا ہے اور قرآن میںبھی موجود ہے اور یہ