خطابات نور — Page 142
غرض مومن کا فرض ہے کہ اس کا ہر کام یہاں تک کہ کھانا پینا پہناسب کچھ اللہ ہی کے لئے ہو۔کسی قسم کا تصرف اپنے جان و مال میں بدوں اجازت الٰہی نہ کرے جس کے ہاتھ یہ سب کچھ بیچ چکا ہے۔جب جب کوئی آدمی ہمارے امام علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے تو مجھے سخت حیرت ہوتی اور بار بار میرا دل کانپ جاتا، جب میں یہ فقرہ سنتا ہوں کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔امام کے ہاتھ پر نہیں بلکہ خدا کے ہاتھ پر یہ عہد کیا جاتا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کروں گا۔اس کے صاف معنی یہی ہیں کہ ہر معاملہ میں زندگی کی رفتار اور ہر منزل میں مقصود بالذات دین ہوگا اور دنیا کو دین کے ماتحت رکھوں گا۔اپنے دل، زبان ، جان ، مال۔غرض کسی چیز پر میرا تصرف نہ ہوگا بلکہ آپ کا ہوگا۔دیکھو بیعت کا مفہوم یہی ہے۔اس کے معنے بھی بیچ دینے کے ہی ہیں۔اس کو سوچ سمجھ کر اختیار کرو۔جب تم نے اقرار کرلیا کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا پھر یہ نہیں ہوسکتا کہ جہاں دین اور دنیا کا مقابلہ ہو اور تم کہہ دو کہ یہ نہیں ہوسکتا برادری کے رسم و رواج اور قومی عادات اس کی اجازت نہیں دیتے ایسا کرنا ایسا کہنا، میں سچ کہتا ہوں احکم الحاکمین خدا کے حضور بہت خطرناک ہے۔اب اللہ تعالیٰ مومنوں کی تصریح فرماتا ہے۔ایک صفت ان کی ہوتی ہے التائبون یہ ان کی پہلی صفت ہے کہ جس طرح نفس ان کو کشاں کشاں لئے جاتا تھا اور جدھر جھکے جاتے تھے اب اس کے بالمقابل اللہ تعالیٰ کی طرف جھکتے ہیں۔اپنی خواہشوں اور ارادوں کو خدا تعالیٰ کے حکم اور تصرف کے نیچے کردیتے ہیں۔کوئی دکھ، تکلیف اور مشکل اس کے قدم کو ڈگمگا نہ سکے بلکہ جیسا کہ شرائط بیعت میں درج ہے رنج میں، راحت میں ، عسرمیں، یسر میں قدم آگے ہی بڑھاتا جاوے۔ادھر چلنا بعض اوقات نفسانی اغراض اور خواہشوں کی بنا پر بھی ہوتا ہے اس لئے دوسری صفت ان مومنوں کی یہ ہے العابدون۔یہ توبہ ، یہ رجوع اور انابت ذاتی اغراض اور مقاصد کے نیچے نہ ہو بلکہ منشاء اور مقصد صرف یہ ہو کہ خدا کی فرمانبرداری کی راہ ملے۔عبودیت کی اصل غرض کو پورا کریں۔بعض لوگ اپنے طرز و طریق پر نیکیاں تجویز کرلیتے ہیں مگر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی نیکی نیکی نہیں ہوسکتی جب تک صرف صرف اللہ ہی کے لئے نہ ہو اور اللہ کے بتائے ہوئے طرز پر جس کا نمونہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھایا ہے نہ ہو۔پھر ان کی ایک اور صفت ہوتی ہے کہ الحامدون۔اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے والے ہر حال