خطابات نور — Page 8
ہوئے ہیں ایسا ہی میرے مخالف بھی تباہ اور ہلاک ہو جاویں گے اب غور تو کرو کہ اس حالت اور صورت میں جبکہ مسلمانوں کی تعداد بہت ہی کم یہاں تک کہ انگلیوں پر گنی جا سکے اور پھر ابھی تک مرجع قوم لوگ بھی شامل نہ ہوئے تھے۔یہ پکار کر کہہ دینا کہ میرا عصیان وکفران تم پر ہلاکت لائے گا۔کوئی آسان بات نہ تھی۔الغرض یہ ایک عام بات ہے کہ جب خدا تعالیٰ کسی کو اپنے ید ِ قدرت سے پرورش کرتا ہے تو اپنی قدرت نمائی عجیب عجیب پیرایوں میں ظاہر کر دیتا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب مبعوث کر کے فرعون کے پاس بھیجا تو اس نے نہایت ذلت اور حقارت کی نگاہ سے ان کو دیکھا اور کہا (الزخرف :۵۳) یعنی میں تو اس سے بہتر ہوں وہ تو ایک ذلیل آدمی ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا مگر دیکھو کہ وہ انسان جو اپنے لشکر اپنے شکوہ وطاقت کے گھمنڈ پر کھڑا ہوا تھا۔آخر کہاں گیا؟ اللہ تعالیٰ نے اس کا نام ونشان تک مٹا دیا۔پس یہ خوب یاد رکھو کہ یہی کامیابی ایک راحت بخش معیار سچائی کا ہے جو ہمیشہ سے چلا آیا ہے اور چلا جائے گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں چونکہ تمام خوبیاں مجتمع تھیں اور ہر ایک نبی یا رسول کے اعداء جو فرداً فرداً تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ سب دشمن مجموعی طور پر موجود تھے اس لئے آپ کی کامیابی تمام انبیاء علیہم السلام کی کامیابیوں کا مجموعہ تھی اسی لئے مدینہ طیبہ کے یہود اور نصاریٰ کے مصائب ومعاصی بصیغہ ماضی بیان فرماتے فرماتے اب یوں فرماتا ہے کہ حَقٍّ (اٰل عمران :۲۲) یعنی مضارع کا صیغہ استعمال فرمایا گویا اس ایک نبی کے قتل کے ارادہ سے ہی تمام نبیوں کو قتل کر دیا ہے۔پس ہماری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان تمام خوبیوں اور صفات کے جامع تھے جو مختلف اوقات میں انبیاء علیہم السلام میں موجود تھیں اور قرآن کریم کل کتب کی جامع اور تمام خوبیوں کی جامع ہے۔(البیّنۃ :۲) یعنی یہ لوگ سیدھے ہی کب ہونے والے تھے جب تک کہ ان کے پاس ایک بیّنہ نہ آجاتی۔۔۔۔۔۔۔جس کے پاس ایک کتاب ہو۔جس میں الگ الگ سورتیں ہوں اور دنیا بھر کی مضبوط ومستحکم کتابوں کی جامع ہو۔یہ نہیں فرمایا کہ محرّف کتابیں ہوں بلکہ یہ فرمایا کہ (البیّنۃ :۴) قرآن کریم کا نام