خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 9 of 660

خطابات نور — Page 9

مہیمن بھی ہے یعنی محافظ اور نگہبان اور یہ نام اس لئے رکھا گیا کہ وہ ان تمام کتابوں کا جامع شارح اور مفسر ہے جو مختلف اوقات میں فرداً فردا ً کسی قوم کے پاس بھیجی گئی تھیں یہ ایک سچی بات ہے جو مشہور ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی دنیا میں گزرے ہیں اور یہ بھی مشہور بات ہے کہ حضرت ولد آدم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی تعداد بھی اسی قدر تھی جن کے حالات اور سوانح کتب الرجال میں مرقوم ہیں۔گویا ہر ایک میں نبوت کا رنگ موجود تھا اور صحابہ کو دکھ پہنچانے والوں کے لئے بھی یہی فتویٰ تھا۔اب میں پھر جناب موسیٰ علیہ السلام کی مماثلت میں دئے ہوئے عظیم الشان وعدہ کی طرف رجوع کر کے کہتا ہوں کہ یہ وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہے۔اس کو موسیٰ علیہ السلام کے وعدے کے رنگ میں دکھایا ہے کہ موسیٰ کے دشمن جب ہلاک ونابود ہو گئے تو تم اگر کفران وعصیان کرتے ہو تو بتلائو تم کیونکر بچ سکتے ہو۔ (المزمل : ۱۸)۔جیسے موسیٰ علیہ السلام کا ایک دشمن تھا ویسے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد اور خاص دشمن تھے جو اسی طرح معذّب کئے گئے جس طرح وہ  (الزخرف:۵۳) کہنے والا نابود کیا گیا یہ ایک خاص بات ہے کہ کبھی کسی خاص شخص کو کسی خاص صفت کے سبب معنوں میں وسیع کر دیا جاتا ہے دنیا میں مثل مشہور ہے۔لِکُلِّ فِرْعَوْنَ مُوْسٰی۔الغرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دوستوں کی قلت اور اعداء کی بے حد کثرت کے دنوں میں ایسے الفاظ میں جو اہل عرب کی جنگجو اور کینہ توز اور لفظ لفظ پر بھڑک اٹھنے والی قوم کے لئے (گویا بارود کا کام کرنے والے تھے اپنے محفوظ رہنے اور ان کے مورد غضب الٰہی ہونے کی پیشگوئی فرمائی جو لفظ بلفظ پوری ہوئی)۔نادان سمجھتے تھے کہ بس اس کے ساتھ ہی یہ سارا کھیل بگڑ جائے گا اور ہم کامیاب ہو جائیں گے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو اور بھی ذلیل کرنے کے لئے یہ وعدہ فرمایا جو آیت استخلاف میں بیان ہوا یعنی جس طرح پر جناب موسیٰ علیہ السلام کی قوم مصر کے آہنی تنور سے نکل کر اور اپنے دشمنوں کے پنجہ سے نجات پاکر آخر معزز وممتاز ہوئی اور خلعت خلافت اور حکومت سے سرفراز ہوئی۔اسی طرح ٹھیک اسی طرح اس رسول کے اتباع بھی موسیٰ علیہ السلام کے اتباع کی طرح اسی زمین میں حکومت اور خلافت سے بہرہ ور ہوں گے ک (کاف) علت کا ہے اور سبب کے