خطابات نور — Page 7
(الحج :۱۶) قرآن کریم کے پر غور مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے اور ایسا ہی تورات شریف پر نظر کرنے سے پتہ لگتا ہے کہ ہمارے ہادی اکمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس رسول کے مثیل ہیں جو فرعون کے وقت برگزیدہ اور بنی اسرائیل کا ہادی ہو کر آیا تھا۔جیسے فرمایا:۔ ۔ ۔(المزمل :۱۶ تا ۱۸) یعنی ہم نے ہی تمہاری طرف تمہارا نگران رسول بھیجا ہے اور ٹھیک اسی طرح بھیجا ہے جیسا کہ فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا جب فرعون نے نافرمانی کی اس رسول کی تو ہم نے اسے سخت سخت پکڑ لیا۔پس تم اگر اس رسول کی مخالفت اور انکار کرو گے تو کیونکر بچ سکتے ہو۔اب اس آیت میں جو سورۂ مزمل (مکی سورۂ) کی ایک آیت ہے اس وقت حضور نے مثیل موسیٰ کے رنگ میں اپنے اعداء کے نیست ونابود ہونے کی پیشگوئی کی جبکہ وہ یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اب امروز فردا میں ہم اس کو نیست ونابود کر دیں گے اور وہ اپنے خیال میں طرح طرح کے منصوبے گانٹھ رہے تھے اور اخراج یا قتل کی خوفناک اور کمینہ سازشیں کر رہے تھے اور بظاہر ان کی موجودہ حالت اور سامان نے ان کے ارادوں کے پورا ہونے کی قوی امید دلا رکھی تھی۔مثیل موسیٰ کو یہ صدا آرہی تھی کہ (المائدۃ :۶۸) اس وعدہ الٰہی کو پکار پکار کر دشمنوں کو سنا دیا کہ تمہاری شرارتیں اور شیطنتیں مجھے ضرر نہ پہنچا سکیں گی بلکہ میں ان کے اثر سے محفوظ اور مصئون رہوں گا اس پر وہ عرب کی غیور اور کینہ توز قوم اور بھی جھلاّئی مگر آخر کار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسبِ وعدہ الٰہی ان کے نرغے سے محفوظ نکل آئے اور وہ خدا کے دشمن رسول کے دشمن انسان کی اصلاح وفلاح کے دشمن ہاتھ کاٹتے رہ گئے۔یہی نہیں کہ اس کثرت اعدائے ملت اور قلت انصار دین کے وقت اپنے اپنے بچ جانے ہی کی پیشگوئی کی۔نہیں! بلکہ وہ بات جس نے عرب جیسی جنگجو قوم کو اور بھی چڑا دیا و ہ اس دردناک عذاب کی خبر تھی جو مثیل موسیٰ والی آیت میں ان کو سنائی کہ یاد رکھو جیسے فرعونی موسیٰ علیہ السلام کے عصیان وکفر ان کے باعث عرضہ تیغ ہلاکت