خطابات نور — Page 112
جس قدر صداقتیں موجود ہیں اور جو احکام اللہ تعالیٰ نے دئیے ہیں۔ان سب پر عمل کرکے دکھائو تاکہ نتیجہ میں سکھ پائو۔اللہ تعالیٰ پر ایمان اور یقین کا نتیجہ یہی تو ہوتا ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے اوامر پر عمل کرے اور اس کی نواہی سے بچے۔جب انسان اس قسم کا بن جاتا ہے کہ الغیبپر ایمان لاتا ہے اور خدا کی عبادت کرتا ہے اور اس کی مخلوق پر شفقت کرتا ہے پھر خدا تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ ہم اس کا بدلہ کیا دیں گے؟ (البقرۃ:۶) یہ لوگ مظفر و منصور ہوجائیں گے۔دنیا میں بامراد اور کامیاب ہونے کا یہ زبردست ذریعہ ہے اور اس کا ثبوت موجود ہے۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی لائف پر نظر کرو۔ان کامیابیوں اور فتح مندیوں کی اصل جڑ کیا تھی؟ یہی ایمان اور اعمال صالحہ تو تھے ورنہ اس سے پہلے وہی لوگ موجود تھے وہی اسباب تھے وہی قوم تھیلیکن جب ان کا ایمان اللہ تعالیٰ پر بڑھا اور ان کے اعمال میں صلاحیت اور تقویٰ اللہ پیدا ہوا تو خدا تعالیٰ کے وعدوں کے موافق وہ دنیا میں بھی مظفرومنصور ہوگئے تاکہ ان کی اس دنیا کی کامیابیاں آخرت کی کامیابیوں کے لئے ایک دلیل اور نشان ہو ں۔یہ نسخہ صرف کتابی نسخہ نہیں ہے بلکہ ایک تجربہ شدہ اور بارہا کا آزمودہ نسخہ ہے۔جو اسے استعمال کرتا ہے وہ یقیناً کامیاب ہوگا اور منعم علیہ گروہ میں داخل ہوجاوے گا۔پس اگر تم چاہتے ہو کہ بامراد ہوجائو، تم چاہتے ہو کہ منعم علیہ بنو، تو دیکھو اس نسخہ کو استعمال کرو۔۷؎ بامراد اور کامیاب ہونے کی اصل تو بیان ہوچکی اب محرومی کی اصل جڑ بتائی۔ (البقرۃ:۷)جن لوگوں نے خلاف ورزی کی اور تیرے انذار اور عدم انذار کو برابر سمجھ لیا وہ مومن نہیں ہوں گے۔یہ کیسی سچی بات ہے کہ جب انسان کسی شے کے وجود اور عدم وجود کو برابر سمجھ لیتا ہے وہ اس کے حصول کے لئے کوئی سعی نہیںکرسکتا آخر محروم رہ جاتا ہے۔یہی حال ان لوگوں کا ہوا۔جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا اور اس انکار کی وجہ یہ ہوئی کہ انہوں نے آپ کے انذار اور عدم انذار کو مساوی سمجھا نتیجہ اس کا ایمان سے محرومی ہوئی اور انجام کار وہ ان تمام کامیابیوں اور فتوحات سے جو اہل ایمان لوگوں کے حصہ میں آئیں بالکل بے نصیب اور محروم رہے۔