خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 111 of 660

خطابات نور — Page 111

سے ان کو دور کرو۔اسی طرح اپنے ہاتھوں اور پائوں کو خدا کے لئے مخلوق کی ہمدردی اور بھلائی میں خرچ کرو اور ایسا ہی اگر اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہے کپڑا دیا ہے غرض جو کچھ دیا ہے اسے مخلوق کی ہمدردی اور نفع رسانی کے لئے خرچ کرو۔میں دیکھتا ہوں کہ اکثر لوگ نئے کپڑے بناتے ہیں لیکن وہ پرانے کپڑے کسی غریب کو نہیں دیتے بلکہ اسے معمولی طور پر گھر کے استعمال کے لئے رکھ لیتے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ اگر کسی کو خدا کے فضل سے نیا ملتا ہے اور خدا تعالیٰ نے اسے اس قابل بنایا ہے کہ وہ نیا کپڑا خرید کر بنالے تو وہ کیوں پرانا اپنے کسی غریب اور نادار بھائی کو نہیں دیتا‘ اگر نیا جوتا ملا ہے تو کیوں پرانا کسی اور کو نہیں دے دیتے ہو۔اگر اتنی بھی ہمت اور حوصلہ نہیں پڑتا تو پھر نیا دینا تو اور بھی مشکل ہوجائے گا۔خدا تعالیٰ نے تکمیل ایمان کے لئے دو ہی باتیں رکھی ہیں۔تعظیم لامر اللہ اور شفقت علی خلق اللہ جو شخص ان دونوں کی برابر رعایت نہیں رکھتا وہ کامل مومن نہیں ہوسکتا۔کیا تم میں سے اگر ایک ہاتھ ایک ٹانگ کسی کی کاٹ دی جاوے تو وہ نقصان نہ اٹھاوے گا۔اسی طرح پر ایمان کا بہت بڑا جزو ہے شفقت علیٰ خلق اللہ مگر میں دیکھتا ہوں کہ اس پر زیادہ توجہ ہی نہیں رہی اور یہی وجہ ہے کہ ایمان کا پہلا جزو تعظیم لامر اللہ بھی نہیں رہی ہے۔پس اس میں ہرگز سستی اور غفلت نہ کرو۔خدا تعالیٰ کی عطاکردہ نعمتوںکی شکرگزاری یہی ہے کہ اس کی مخلوق کو نفع پہنچایا جاوے۔خدا کی مخلوق کو نفع پہنچانا درازئ عمر کا باعث ہے۔کون ہے جو نہیں چاہتا کہ دنیا میں لمبی عمر پاوے۔ہر شخص کے دل میں کم و بیش یہ آرزو موجود ہے مگر لمبی عمر کے حاصل کرنے کا اصلی اور سچا طریق یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی مخلوق کو نفع پہنچایا جاوے۔چنانچہ خود اللہ تعالیٰ نے اس کا فیصلہ کردیا۔ (الرّعد :۱۸) درازیٔ عمر کا ایک اور نسخہ قرآن مجید میں موجود ہے۔وہ استغفار ہے۔پس جو چاہتا ہے کہ عمر سے تمتّع اٹھاوے وہ اس نسخہ پر عمل کرے۔اس لئے جہاں تک تم سے بن پڑتا ہے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔اور پھر جو کچھ اس نے دیا ہے اس کی مخلوق کی نفع رسانی کے واسطے اسے خرچ کرو۔دل دیا ہے تو پوری توجہ کے ساتھ دعائیں ہی مانگتے رہو اپنے لئے اور اپنے اور دوسرے لوگوں کے واسطے۔میں باربار تاکید کرتا ہوں کہ منشاء الٰہی یہی ہے کہ اس کی مخلوق کے ساتھ نیک سلوک ہو اس اصل کو کبھی مت بھولو کیونکہ منعم علیہ بننے کے واسطے اس پر عمل کرنا بڑا ہی ضروری ہے۔