خطابات نور — Page 113
یہ کتاب مجید جو ہمیں دی گئی ہے۔ساری خوبیوں اور کمالات سے بھری ہوئی ہے لیکن جو شخص اس کتاب کے وجود اور عدم وجود ہی کو برابر سمجھے وہ ان انعامات اور برکات سے جو اس کتاب کے پڑھنے اور پھر عمل کرنے سے ملتے ہیں کیونکر بہرہ ور ہوسکتا ہے؟ وہ یقینا یقینا محروم رہے گا اور اسے ایمان نصیب نہیں ہوگا لیکن اگر سلیم الفطرت انسان اپنے قویٰ سے کام لے اور اس کو یوں ہی نہ چھوڑ دے تو اللہ تعالیٰ اس کو محروم نہیں چھوڑے گا۔اس کا نام شکور ہے وہ اس کی ضرور قدر کرے گا اور اس پر اپنی نعمت کے دروازے بے شک کھول دے گا۔اسے فہم قرآن عطا کرے گا اور ایک ذوق کے ساتھ توفیق عمل نصیب ہوگی۔اس بات کو میں باربار بیان کروں گا اور تم بھی خوب یاد رکھو کہ بامراد اور کامیاب ہونے کی کلید یہی ہے کہ اس کتاب کو اپنا دستور العمل بنالو۔اگر اس کتاب کو کوئی چھوڑتا ہے اور اس کے عدم اور وجود کو برابر سمجھتا ہے تو وہ اپنے ہاتھ سے اسباب محرومی تیار کرتا ہے۔اس فعل پر خدا تعالیٰ سے اسے اولاً یہ سزا ملتی ہے کہ غور کرنے والا دل چھین لیا جاتا ہے وہ حقائق اور معارف کو سوچ نہیں سکتا اور اسی طرح پر دیکھنے اور سننے کے قویٰ بھی بیکار ہوجاتے ہیں وہ حق کا شنوا اور حق کا بینا نہیں رہتا۔پس متقی بننے کی راہ تو یہ ہے کہ مومن بالغیب ہو۔اعمال صالحہ پر چست اور چالاک ہو۔تمام صداقتوں پر کاربند ہو۔جزا و سزا پر ایمان لانے والا ہو کسی صداقت کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھے اور دل سے کام لے تاکہ عذاب سے محفوظ رہے۔بہت سے دل اس قسم کے بھی ہوتے ہیں کہ اپنے فوری جوش یا بعض خارجی اثروں کی وجہ سے اپنے آپ کو مومن ظاہر کرتے ہیں لیکن جناب الٰہی کے حضور سے فتویٰ ملتا ہے کہ مومن نہیں ہیں اگر غور کیا جاوے تو اس اصل سے بھی بہت سے جھگڑے طے ہوجاتے ہیں۔میں اپنا نام نور الدین کہلاتا ہوں کوئی شمس الدین ،جمال الدین ،کمال الدین کہلاتا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا آسمان پر بھی یہی نام ہے؟ اگر آسمان پر نہیں تو کچھ فائدہ اور حاصل نہیں۔اسی طرح پر مومن وہی ہے جو آسمان پر مومن ہو اور کافر وہی ہے جس کا نام آسمان پر کافر ہو۔دنیا کی نظر میں مومن یا کافر ہونا کوئی اثر اصل بات پر نہیں ڈال سکتا۔