خطابات مریم (جلد دوم) — Page 952
خطابات مریم 952 زریں نصائح کے اختتام اور دوسری صدی کے شروع ہونے کا ذکر فرمایا۔آپ نے بتایا کہ حضرت مسیح الموعود کے مخالفین کا خیال تھا کہ آپ کی وفات کے ساتھ ہی یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا۔لیکن خدا تعالیٰ نے ہر طرح سے آپ کی تائید و نصرت فرمائی۔حضرت سیدہ صدر صاحبہ نے فرمایا کہ صدی کے خاتمہ پر ہم نے خوب خوشیاں منانی ہیں۔مگر عین دینی رنگ میں۔دعاؤں پر زور دیں۔تضرع اختیار کریں۔صدقات دیں دکھی انسانوں کی خدمت ، بیماروں کی مزاج پرسی ، قیموں بیواؤں کی امداد، صدقہ و خیرات، جانوروں کی قربانی وغیرہ کی طرف تاکید فرمائی۔فرمایا کہ ناصرات و اطفال کی اعلیٰ تربیت کی طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے ان کو نئی صدی کے تقاضوں کے لیے تیار کریں تا وہ آئندہ ذمہ داریوں کو احسن طریق سے نبھا سکیں۔تاریخ احمدیت تمام بچوں کے ذہن نشین کروائی جائے۔مطالعہ کا شوق ان کے اندر پیدا کریں۔تا وہ اس کے ذریعہ اپنے دل اور دماغوں کو روشن کر سکے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر فعل اصلاح معاشرہ کے لیے مشعل راہ ہے۔پھر آپ نے شرائط بیعت پر روشنی ڈالتے ہوئے ان پر عمل کرنے کی تاکید فرمائی۔موجودہ زمانہ میں احمدیوں پر سختیوں اور قربانیوں کا ذکر آپ نے بڑے احسن رنگ میں بیان فرمایا مگر ساتھ ہی ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور اخوت کے ساتھ پیش آنے کی تلقین فرمائی نماز پر پابندی سے عمل پیرا ہونے ، پردہ کرنے اور نیک صالح عمل اختیار کرنے کی طرف توجہ دلائی۔(سالانہ رپورٹ لجنہ اماءاللہ پاکستان )