خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 882 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 882

خطابات مریم 882 زریں نصائح قیادت نمبر 6-16 ستمبر صدر صاحبہ لجنہ اماءاللہ نے حاضرات سے اپنے خطاب میں حقوق اللہ کی ادائیگی کے ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی پر بہت زور دیا۔قرآن مجید اور احادیث سے مثالیں دے کر آپ نے کہا کہ کسی کی عزت پر حملہ کرنا یا کسی کے دل کو ٹھیس پہنچانا بھی اتنا ہی تکلیف دہ امر ہے جیسے کسی کا مال لوٹ لیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی شرائط بیعت میں عہد لیا ہے کہ ہمدردی خلائق کو مدنظر رکھے گا۔فتنہ فساد جھگڑے پیدا ہی ہو تے اس بات سے ہیں کہ کسی کو تکلیف پہنچے۔جس کا اثر ہوتے بڑھتے بڑھتے تنظیم پر پڑتا ہے اور جماعتی اتحاد مجروح ہوتا ہے۔احمدیت کی ترقی کے لئے آپ کو وقت کی بھی قربانی دینی ہوگی ، اولاد کی قربانی بھی دینی ہوگی ، جذبات کی قربانی بھی دینی ہوگی ، مال کی قربانی بھی دینی ہوگی اور یہ سب قربانیاں دے کر آپ اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کر سکیں گی۔آئندہ صدی جو انشاء اللہ غلبہ اسلام کی صدی ہوگی کی تیاری کے لئے ابھی سے بچیوں کی تربیت کریں۔انہیں قرآن کا ترجمہ سکھائیں، دین پر ان کا عمل ہو، دین سے محبت ہو ، دین کے لئے قربانی کا جذبہ ہو، دین کی غیرت ہو اور قوم ہمیشہ وہی زندہ رہتی ہے جو اگلی نسل کو مزید قربانیوں کے لئے تیار کرتی رہے۔اس کے لئے لگا تار جد وجہد کی ضرورت ہے۔جس کے لئے صاف دلوں کے ساتھ مل کر کوشش کرنی ہوگی۔قیادت نمبر 4۔17 ستمبر آپ نے اپنے خطاب میں حضرت مصلح موعود کے الہام ”اگر پچاس فیصدی عورتوں کی اصلاح ہو جائے تو اسلام کو ترقی حاصل ہو سکتی ہے“ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے لجنہ اماءاللہ کی تنظیم کو جماعت کا ایک کارآمد پرزہ بننے اور خواتین اور بچیوں میں ذمہ داری کا احساس پیدا کرنے پر زور دیا۔آپس میں اتحاد ہونا چاہئے جس طرح ماں بچے کو سزا بھی دیتی ہے اور پھر گلے سے بھی لگا لیتی ہے۔کام کرنے والیوں میں مسابقت کی روح ضرور ہولیکن کسی کا رستہ روک