خطابات مریم (جلد دوم) — Page 818
خطابات مریم 818 پیغامات پیغام برائے سونیئر لجنہ اماءاللہ ناروے 1989ء بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مکر مہ صدر صاحبہ لجنہ اماءاللہ ناروے السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُه جشن تشکر صد سالہ کے موقع پر ناروے کی جماعت ایک سونیئر شائع کر رہی ہے آپ کی خواہش پر اس کے لئے ایک پیغام بھجوا رہی ہوں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمد یہ جماعت پہلی صدی ختم کر کے دوسری صدی میں داخل ہو چکی ہے آپ سب کو مبارک ہو۔اس ایک صدی میں جماعت احمدیہ نے اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضلوں کو دیکھا اور جو وعدے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کئے تھے ان میں سے کثرت سے پورے ہوئے اور جو مستقبل کے متعلق ہیں وہ بھی پوری شان سے انشاء اللہ پورے ہونگے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الوصیت میں فرمایا تھا۔” یہ مت خیال کرو کہ خدا تمہیں ضائع کر دے گا تم خدا کے ہاتھ کا ایک بیج ہو جو زمین میں بویا گیا خدا فرماتا ہے کہ یہ بیج بڑھے گا اور پھولے گا اور ہر ایک طرف سے اس کی شاخیں نکلیں گی اور ایک بڑا درخت ہو جائے گا پس مبارک وہ جو خدا کی بات پر ایمان رکھے اور درمیان میں آنے والے ابتلاؤں سے نہ ڈرے کیونکہ ابتلاؤں کا آنا بھی ضروری ہے تا خدا تمہاری آزمائش کرے کہ کون اپنے دعوی بیعت میں صادق اور کون کا ذب ہے۔وہ جو کسی ابتلا سے لغزش کھائے گا وہ کچھ بھی خدا کا نقصان نہیں کرے گا اور بد بختی اُس کو جہنم تک پہنچائے گی اگر وہ پیدا نہ ہوتا تو اُس کے لئے اچھا تھا مگر وہ سب لوگ جو اخیر تک صبر کریں گے اور اُن پر مصائب کے زلزلے آئیں گے اور حوادث کی آندھیاں چلیں گی اور قومیں ہنسی اور ٹھٹھا کریں گی اور دنیا اُن سے سخت