خطابات مریم (جلد دوم) — Page 809
خطابات مریم 809 پیغامات پیغام برائے سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ بنگلہ دیش 1989ء بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ میری عزیز بہنو ! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُه آپ سب کو مبارک ہو کہ احمد یہ جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے دوسری صدی میں داخل ہو چکی ہے۔اس عرصہ میں احمد یہ جماعت کی مخالفت ہوئی تکلیفیں دی گئیں لیکن یہ کوئی نئی چیز نہ تھی خدائی جماعتوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائشیں آتی رہتی ہیں۔حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ اپنی کتاب سرمہ چشم آریہ میں فرماتے ہیں :۔ہر ایک مومن اور پاک باطن اپنے ذاتی تجربہ سے اس بات کا گواہ ہے کہ جو لوگ صدق دل سے اپنے مولیٰ کریم جل شانہ سے کامل وفاداری اختیار کرتے ہیں وہ اپنے ایمان اور صبر کے اندازہ پر مصیبتوں میں ڈالے جاتے ہیں اور سخت سخت آزمائشوں میں مبتلا ہوتے ہیں ان کو بد باطن لوگوں سے بہت کچھ رنج دہ باتیں سننی پڑتی ہیں اور انواع و اقسام کی مصائب و شدائد کو اُٹھانا پڑتا ہے اور نا اہل لوگ طرح طرح کے منصوبے اور رنگا رنگ کے بہتان ان کے حق میں باندھتے ہیں اور ان کے نابود کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔یہی عادت اللہ اُن لوگوں سے جاری ہے جن پر اس کی نظر عنایت ہے غرض جو اس کی نگاہ میں راستباز اور صادق ہیں وہ ہمیشہ جاہلوں کی زبان اور ہاتھ سے تکلیفیں اُٹھاتے چلے آئے ہیں سو چونکہ سنت اللہ قدیم سے یہی ہے اس لئے اگر ہم بھی خویش بیگانہ سے کچھ آزار اُٹھا ئیں تو ہمیں شکر بجا لانا چاہئے اور خوش ہونا چاہئے کہ ہم اُس محبوب حقیقی کی نظر میں اس لائق تو ٹھہرے کہ اس کی راہ میں دکھ دیے جائیں اور ستائے جائیں“۔(روحانی خزائن جلد 2 سرمه چشم آریہ صفحہ 315)