خطابات مریم (جلد دوم) — Page 772
خطابات مریم 772 پیغامات پیغام برائے جلسہ سالانہ لجنہ اماءاللہ ویسٹ جرمنی 1988ء بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ پیاری بہنو ! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُه اس مختصر پیغام کے ذریعہ آپ کے جلسہ سالانہ میں شرکت کر رہی ہوں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اگلے سال جماعت احمدیہ کے تمام افراد جشن تشکر منائیں گے اللہ تعالیٰ کے احسانات جواس نے لگا تارسوسال جماعت احمدیہ پر کئے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔لَئِنُ شَكَرْتُمْ لَا زِيدَنَّكُمْ اگر تم شکر ادا کرتے رہو گے میں تمہیں زیادہ دوں گا۔پس شکر کا جذ بہ ہر احمدی خاتون میں ہونا چاہئے اس لئے بجنات کی عہدہ داران کا فرض ہے کہ عورتوں کے سامنے اپنوں کے بھی غیروں کے بھی ، ان ترقیات کا ذکر بطور شکر کے کرتے رہنا چائے جو سو سال میں بارش کی طرح اللہ تعالیٰ نے جماعت احمد یہ پر برسائی ہیں اور انفرادی طور پر ہر عورت کو جائزہ لینا چاہئے کہ کیا میں شکر گزار بندی ثابت ہو رہی ہوں یا نہیں ؟ شکر کرنے کے کئی طریقے ہیں۔ایک زبان سے اظہار کرنا دوسرے اپنے عمل کے ذریعہ سے اظہار کرنا۔زبان سے اظہار بھی تو ہر ایک کرتا ہے مگر یہ کافی نہیں جب تک آپ کا عمل ، آپ کی قربانیاں، آپ کا بنی نوع انسان سے سلوک آپ کے دعوی کا ساتھ نہ دیں۔آپ منہ سے تو کہیں اللہ تعالیٰ کا شکر ہے لیکن کوئی ابتلا آ جائے کوئی تکلیف پہنچے تو گھبرا جائیں۔اس ملک میں آپ لوگ جا بسے ہیں اللہ تعالیٰ نے رزق کے دروازے آپ پر کھولے ہیں حقیقی شکر کا عملی مقام آپ کو اس وقت ہی حاصل ہوسکتا ہے۔جب آپ اپنے ذاتی اخراجات پر جماعت کے لئے خرچ کرنے کو احمدیت کی ترقی کیلئے خرچ کرنے کو مقدم سمجھیں گی خود تنگی بھی اُٹھانی پڑے تو ترجیح دیں گی احمدیت کی ترقی کے لئے جو تحریکات حضور کی طرف سے پیش ہوتی رہتی ہیں ان میں شمولیت کرنے سے بلکہ شامل ہونے والوں میں صت اوّل میں آنے سے۔