خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 51 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 51

خطابات مریم 51 تحریرات جاری کیا گیا جس میں چھ سال پڑھ کر لڑکیاں خوب اچھی طرح دینی تعلیم سے واقف ہو جاتی تھیں تعلیم کے علاوہ آپ نے خطبات، تقاریر کے ذریعہ سے ان کے دلوں میں احساس ذمہ داری پیدا کیا۔یہ بتاتے ہوئے کہ قومی ذمہ داریاں جس طرح مردوں پر عائد ہوتی ہیں اسی طرح عورتوں پر بھی۔اس مقصد کے لئے 1922ء میں آپ نے لجنہ اماءاللہ قائم کی تا ایک تنظیم۔منسلک ہو کر وہ ان ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو سکیں۔شروع میں اس تنظیم کا ممبر بننا عورتوں کی اپنی مرضی پر تھا لیکن 1939ء میں آپ نے سب احمدی مستورات کے لئے لجنہ اماءاللہ کا ممبر بنا لازمی قرار دے دیا۔حضور کی قیادت میں احمدی خواتین ترقی کرتی چلی گئیں قوم کے لئے قربانی کا جذبہ پیدا کرنے کیلئے ان کے ذمہ کئی چندے لگائے مثلاً بیت الذکر لندن کا چندہ اور بیت الذکر ہالینڈ کا چندہ وغیرہ۔آہستہ آہستہ وہ عورتیں جو کبھی اپنی ضروریات پر دینی ضروریات کو مقدم رکھنے کا تصور بھی نہیں رکھتی تھیں انہوں نے بیش قیمت زیورات حضور کی خدمت میں پیش کر دیئے۔یہ قربانی صرف ان عورتوں نے نہیں کی جو امیر تھیں اور جن کے پاس دینے کو زیور اور روپے تھے بلکہ وہ غریب ترین عورتیں جن کے پاس کچھ نہیں تھا بلکہ جن کو گزارہ کیلئے انجمن سے رقوم ملتی تھیں انہوں نے بھی سب کچھ پیش کر دیا یہ تک نہ دیکھا کہ شام کے کھانے کے لئے بھی کچھ ہے یا نہیں۔غرض احمدی عورت کے کردار کی تعمیر اور قربانیوں کا جذبہ پیدا کرنے کیلئے حضرت مصلح موعود نے بہت لمبا عرصہ کوشش کی۔ایک سکیم ختم ہوتی دوسری شروع ہو جاتی۔ناخواندہ کو خواندہ بنانے کا کام لجنہ اماءاللہ کے سپرد کیا اور اس وقت قادیان میں ایک عورت بھی ایسی نہ رہی جو پڑھ لکھ نہ سکتی ہو۔عورتوں میں علم کا شوق اور اس علم کا اظہار تحریر کے ذریعہ کرنے کے لئے آپ نے مصباح جاری فرمایا۔شروع میں اس کی ادارت مردوں کے ہاتھوں میں رہی۔عورتیں مضمون لکھ کر بھجوا دیا کرتی تھیں لیکن 1947 ء سے گلی طور پر عورتوں نے اس کو بھی سنبھال لیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے مصباح بہت باقاعدگی سے شائع ہو رہا ہے لیکن ابھی تک ہم اسے دوسرے رسالوں کے مقابلہ میں ایک معیاری رسالہ کے طور پر نہیں کر سکے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ لجنہ اس زمانہ سے آج بہت ترقی کر چکی ہے اور وہ ہر قربانی دینے کیلئے ہر وقت تیار رہتی ہیں۔اس نوٹ کے ذریعہ میں اپنی تعلیم یافتہ ادب کا ذوق رکھنے والی اور جنہیں لکھنے کا شوق