خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 50 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 50

خطابات مریم 50 50 وہ اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا تحریرات حضرت مصلح موعود 1889ء میں پیدا ہوئے آپ کی پیدائش سے بھی قبل اللہ تعالیٰ نے آپ کی ساری زندگی کا نقشہ کھینچ دیا تھا اور حضرت اقدس بانی سلسلہ احمدیہ نے وہ ساری تصویر دنیا کے سامنے رکھ دی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ ان صفات کا بیٹا اللہ تعالیٰ مجھے عطا کرے گا۔مخالفتوں کی آندھیاں چلیں، اعتراضات کئے گئے لیکن اللہ تعالیٰ کی بات بھی کبھی ٹلی ہے چنانچہ آپ پیدا ہوئے باوجود کمزوری صحت کے اللہ تعالیٰ نے جن صفات کی نشاندہی کی تھی وہ دنیا کو آپ کے وجود میں نظر آنے لگیں۔1914ء میں آپ جماعت کے امام منتخب ہوئے اور آپ کی اصلاحات کا دور شروع ہوا۔آپ نے جتنے احسانات دوستوں ، دشمنوں، مردوں، عورتوں اور مُلک پر کئے ایک بہت لمبی داستان ہے آپ کا لمحہ لمحہ ملک کی بہتری ، جماعت کی ترقی میں گزرا۔یہاں مجھے اس مختصر نوٹ میں صرف عورتوں پر جو احسانات کئے ان کا تذکرہ کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی جو صفات آپ کی پیدائش سے بھی پہلے بتائی تھیں ان میں ایک یہ تھی کہ وہ اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا۔اسیر ظاہر طور پر بھی ہوتے ہیں اور ذہنی فکری طور پر بھی۔اس زمانہ میں عورت بھی اسیر کا درجہ رکھتی تھی وہ آزادی جو مسلمان عورت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی۔ہندوؤں کے ساتھ رہ کر وہ ختم ہو چکی تھی تعلیم بے حد کم تھی ملک اور قوم کی خدمت کا تصور بھی نہ تھا۔حضرت مصلح موعود نے خلیفہ ہوتے ہی لڑکیوں کی تعلیم پر بے حد زور دیا۔ان کے لئے کالج جاری کیا۔احمدی جماعت میں تعلیم دینے والی استانیوں کی کمی تھی آپ نے مدرستہ الخواتین جاری فرمایا جس میں آپ بنفس نفیس تعلیم دیتے رہے اور چند سال کی تعلیم کے بعد وہ اس قابل ہو گئیں کہ سکول میں بچیوں کو تعلیم دے سکیں۔پہلے پرائمری سکول تھا پھر مڈل ہوا۔پھر اسے ہائی سکول کا درجہ دیا گیا اور جب ہائی سکول سے معقول تعداد بچیوں کی تعلیم پا کر فارغ ہونے لگی تو کالج جاری کیا گیا۔دنیاوی تعلیم کے پہلو بہ پہلو د بینیات کا کالج بھی