خطابات مریم (جلد دوم) — Page 722
خطابات مریم 722 پیغامات سالانہ اجتماع لجنات اماءاللہ بھارت 1984ء بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ میری پیاری بہنو ! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُه اس مختصر پیغام کے ذریعہ آپ کے اجتماع میں شرکت کر رہی ہوں اللہ تعالیٰ آپ کے سالانہ اجتماع کو مبارک کرے اور اللہ تعالیٰ اس کے بہترین نتائج ظاہر کرے۔آپ لجنہ اماءاللہ کی مہرات ہیں۔یعنی اپنے کو اللہ تعالیٰ کی لونڈیاں کہلانا اپنے لئے فخر کا موجب سمجھتی ہیں۔ایک لونڈی اپنے آقا کی اطاعت سے باہر نہیں رہ سکتی۔دنیاوی غلام اور لونڈیاں تو زبر دستی بنائے جاتے ہیں وہ اپنے آقا کے حکم پر جان بھی قربان کر دیں تو ثواب نہیں ملتا کیونکہ اس اطاعت میں ان کی رضا شامل نہیں ہوتی لیکن ہم نے تو خود اپنی گردن اس کی رضا کے سامنے رکھ دی ہے جس پر جب وہ چاہے چھری چلا دے۔ہمارا کچھ نہیں سب اسی کا ہے۔جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُون ہاں جو بھی اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دے اور وہ نیک کام کرنے والا بھی ہو تو اس کے رب کے ہاں اس کے لئے بدلہ مقرر ہے اور ان لوگوں کو نہ آئندہ کے متعلق کسی قسم کا خوف ہوگا اور نہ وہ کسی سابق نقصان پر غمگین ہونگے۔حقیقت میں اسلام کی صحیح تعریف اس آیت میں بیان کی گئی ہے۔حضرت امام جماعت احمد یہ اسلامی اصول کی فلاسفی میں فرماتے ہیں:۔دو یعنی نجات یافتہ وہ شخص ہے جو اپنے وجود کو خدا کے لئے اور خدا کی راہ میں قربانی کی طرح رکھ دے اور نہ صرف نیت سے بلکہ نیک کاموں سے اپنے صدق کو دکھلا دے جو شخص ایسا کرے اس کا بدلہ خدا کے نزدیک مقر ر ہو چکا اور ایسے لوگوں پر نہ کچھ