خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 639 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 639

خطابات مریم 639 پیغامات کے سوا کوئی اور کام بھی کرنے کے قابل ہے یا نہیں ، دشمنانِ اسلام میں عورتوں کی کوشش سے جو روح بچوں میں پیدا کی جاتی ہے اور جو بد گمانی اسلام کی نسبت پھیلائی جاتی ہے اس کا اگر کوئی توڑ ہوسکتا ہے تو وہ عورتوں کے ذریعہ سے ہی ہوسکتا ہے۔اور بچوں میں اگر قربانی کا مادہ پیدا کیا جا سکتا ہے تو وہ بھی ماں ہی کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے۔پس علاوہ اپنی روحانی و علمی ترقی کے آئندہ جماعت کی ترقی کا انحصار بھی زیادہ تر عورتوں ہی کی کوشش پر ہے۔چونکہ بڑے ہو کر جواثر بچے قبول کر سکتے ہیں وہ ایسا گہرا نہیں ہوتا جو بچپن میں قبول کرتے ہیں۔اسی طرح عورتوں کی اصلاح بھی عورتوں کے ذریعہ سے ہوسکتی ہے“۔(الازھار جلداول: صفحہ 52) حضرت مصلح الموعود خلیفہ المسیح الثانی جو بانی تھے لجنہ اماءاللہ کے اور جن کے طبقہ نسواں پر ان گنت احسانات ہیں کے ان الفاظ سے لجنہ اماءاللہ کے چار بڑے مقاصد سامنے آتے ہیں۔1 اپنی علمی وروحانی ترقی سے ہمارا وجوداسلام کے لئے مفید ثابت ہو۔2 اپنے معاشرہ کی اصلاح اپنے ملنے جلنے والیوں کی ترقی کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔3 اپنے بچوں کی صحیح تربیت ان کے اندر مذہب کی محبت ، مذہب کے لئے غیرت اور قربانی کا جذ بہ پیدا کرنا۔جو اعتراضات غیر مسلموں کی طرف سے اسلام پر ہوئے ہیں ان کے علمی رنگ میں جواب دینے اور اپنے عمل سے ثابت کرنا کہ اسلام ایک زندہ مذہب ہے اور اسلام کے اُصولوں پر چل کر ہی ہم روحانی ترقی کر سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکتے ہیں۔میں اُمید کرتی ہوں کہ ان چار مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے ہماری سب بہنیں پوری کوشش کریں گی اور صرف نام کی مسلمان نہیں کہلائیں گی بلکہ قرآن کریم کے احکام اور آنحضرت ملے کے ارشادات پر عمل کرنے والی بنیں گی اور اپنے نیک نمونہ سے اپنے بچوں کو بھی ایسا ہی بنائیں گی۔ایک قوم کو زندہ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ قربانیوں کا ایک تسلسل جاری رہے اور ہر ایک آنے والی نسل پہلی نسل کی جگہ لینے کو تیار رہے۔میں آپ سے بہت دور ہوں۔لیکن اس محبت کی وجہ سے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے