خطابات مریم (جلد دوم) — Page 638
خطابات مریم 638 پیغامات انڈونیشیا کے تیسرے سالانہ اجتماع پر پیغام میری عزیز بہنو ! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُه آپ کی جنرل سیکرٹری کے خط سے معلوم ہوا ہے کہ نومبر کے آخری ہفتہ میں آپ اپنا سالانہ اجتماع منعقد کر رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ اس اجتماع کے انعقاد کو بہت بہت مبارک کرے اور ایسے پروگرام بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔جن سے اس ملک میں لجنہ کی تنظیم مضبوط ہو اور غلبہ اسلام کے مقصد میں لجنہ اماءاللہ جماعت احمدیہ کی پوری پوری معاون بن سکے۔لجنہ اماءاللہ کی بنیاد حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے 1922ء میں رکھی تھی۔آپ پورے یقین سے اس بات پر قائم تھے کہ کوئی قوم اس وقت تک پورے طور پر ترقی نہیں کرسکتی۔جب تک اس کی عورتیں تعلیم یافتہ اپنے نصب العین کو سمجھنے والی اور اپنے مقصد میں پوری طرح کوشاں نہ ہوں۔اس تنظیم کو قائم کرنے سے آپ کا یہی مقصد تھا کہ اس کے ذریعہ سے مستورات اپنے دینی علم کو ترقی دیں۔ترقی کرنے کی مشق پیدا ہو۔خدمت دین کا جذبہ پیدا ہو۔اپنے علم اور عمل سے وہ جماعت کے لئے مفید وجود بن سکیں اور اپنی آئندہ نسلوں کی بہترین طور پر تربیت اور ان کی حفاظت کر سکیں اور اپنی زندگی کے حقیقی مقصد یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کر سکیں۔اسی لئے لجنہ اماءاللہ کے قیام کے وقت حضرت مصلح موعود نے فرمایا:۔” ہماری پیدائش کی جو غرض و غایت ہے اس کو پورا کرنے کے لئے عورتوں کی کوششوں کی بھی اسی طرح ضرورت ہے جس طرح مردوں کی ہے۔جہاں تک میرا خیال ہے عورتوں میں ابھی تک اس کا احساس پیدا نہیں ہوا کہ اسلام ہم سے کیا چاہتا ہے ہماری زندگی کس طرح صرف ہونی چاہئے۔جس سے ہم بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کر کے مرنے کے بعد بلکہ اسی دنیا میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی وارث ہوسکیں۔اگر غور کیا جائے تو اکثر عورتیں اس امر کو محسوس نہیں کریں گی کہ روز مرہ کے کاموں