خطابات مریم (جلد دوم) — Page 571
خطابات مریم 571 خطابات خطاب عہدیداران ضلع فیصل آباد سب سے پہلے تو آپ نے اجلاس میں عہدیداران کی کم حاضری پر اظہار تشویش فرمایا اور تلقین کی کہ آئندہ یہ حاضری پوری ہونی چاہیے۔کیونکہ اجلاسوں کا اصل مقصد ہی یہی ہے کہ آپ میں بیداری پیدا ہو اور تربیت کی جائے۔ایک تو ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ اپنا مال، جان وقت اور اولاد کو قربان کرنے کیلئے ہر وقت تیار رہیں گے۔لیکن پھر جب اجلاسوں کے لیے وقت کی تھوڑی سی قربانی دینی پڑتی ہے تو پھر پیچھے کیوں ہٹ جاتی ہیں۔لہذا اجلاسوں میں حاضری زیادہ بڑھا ئیں ، اصلاح نفس کریں اور ان چھوٹی چھوٹی کمزوریوں کو دور کریں۔کیونکہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اجتماع کے موقع پر لجنات کو جو پیغام بھجوایا ہے وہ یہی ہے حضور فرماتے ہیں کہ ” پاکستان اپنی اولیت کو قائم رکھے کیونکہ باہر کی جماعتیں اتنی تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں کہ مجھے ڈر ہے کہ وہ پاکستان کی لجنہ کو پیچھے نہ چھوڑ دیں“۔پھر آپ نے فرمایا کہ دیہات کے لوگوں کو خاص طور پر یہ شکایت رہتی ہے کہ اس اجلاس میں تو جائیں گے لیکن اس گھر میں نہیں جانا کیونکہ برادری کا جھگڑا ہے۔لیکن حضرت محمد مصطفی ﷺ کی تعلیم تو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ محبت بھی خدا کے لیے ہے اور نفرت بھی خدا کیلئے ہے اگر کسی سے دشمنی یا بغض ہے تو محض اس لیے کہ وہ خدا اور اس کے دین کا دشمن ہے۔لیکن جو اس خدا اور رسول پر ایمان رکھتا ہے اور اسی جماعت سے تعلق رکھتا ہو اس سے دشمنی جائز نہیں۔ہمیں اپنی برادریاں خدا اور اس کے رسول کی تعلیمات سے پیاری نہیں ہونی چاہیں۔یہ تو زندہ جماعت کی شان کے خلاف ہے پھر آپ نے دیہات کی عورتوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اکثر جھگڑے زیادہ تر عورتوں سے اُٹھتے ہیں جو بعد میں بڑھ کر برادری کے جھگڑوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔احمدی عورتوں کو تو ساری دنیا کی تربیت کرنی ہے۔اسی لیے تو حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے لجنہ کی تنظیم کو