خطابات مریم (جلد دوم) — Page 568
خطابات مریم 568 خطابات اختتامی خطاب مجلس شوری 1990ء تشہد اور تعوذ کے بعد آپ نے فرمایا :۔اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے قدرت ثانیہ کا سلسلہ جاری فرمایا۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ میں خدا تعالیٰ کی ایک مجسم قدرت ہوں میرے بعد بعض اور وجود ہونگے جو دوسری قدرت کا مظہر ہونگے پس یا درکھیں کہ جماعت کی ساری ترقی قدرت ثانیہ سے وابستہ رہنے اور اطاعت میں مضمر ہے اپنی اولادوں کو بھی یہ بتاتی رہیں۔حضور نے فرمایا کہ ”مبارک وہ جو خدا کی بات پر ایمان رکھے اور درمیان میں آنے والے ابتلاؤں سے نہ ڈرے وہ سب لوگ جو اخیر تک صبر کریں گے آخر ان پر برکتوں کے دروازے کھولے جائیں گے“۔(روحانی خزائن جلد 20 الوصیت صفحہ 309) یہ وعدے جو بہت پہلے کئے گئے تھے یہ ہم کو کتنی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلا رہے ہیں ہم دوسری صدی میں داخل ہو چکے ہیں ہم نے اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو زندہ کرنا ہے اس کا ایک طریق یہ ہے کہ اگلی نسل کے دلوں میں ایمان کی شمعیں جلائیں ان کے دلوں میں خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کا جذبہ پیدا کریں اس زمانہ مین جب لوگ دین سے دور ہو رہے ہیں اپنے بچوں کو دین سے محبت کروانا آپ کا فرض ہے۔احمدی عورت پر بڑی ذمہ داری ہے اپنے بچوں کے دلوں میں دین کی اقدار پیدا کریں بچوں کی تربیت کریں انہیں تقویٰ کی راہوں پر چلا ئیں۔حضور فرماتے ہیں اپنے گھروں کو جنت بناؤ نماز کی عادت ڈالوسچائی کو قائم کر و صلہ رحمی کرو۔نرم زبان کا ستعمال کرو تربیت کا ایک وسیع میدان ہے جو ہم نے سر کرنا ہے اس میں غفلت نہ کریں تا کہ اولا د بگڑنے کی بجائے دین کا ستون بنے۔نئے سال کا کام پورے جوش و عزم کے ساتھ سرانجام دیں ہم سب کا مقصد ایک ہے اس لیے ایک دوسرے سے حسد نہ کریں کہ فلاں نے انعام حاصل کر لیا۔سب یہ سوچیں کہ ہمارے قدم نہ ست ہوں اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین سالانہ رپورٹ لجنہ اماءاللہ پاکستان 1990ء)