خطابات مریم (جلد دوم) — Page 539
خطابات مریم 539 خطابات مسلمان جو بھی کام کرے وہ یہ ہی سوچے کہ یہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوا ہے نہ کہ اس کے اپنے قوت بازو سے۔ساتویں خصوصیت صدقہ دینا ہے۔صدقہ دینے سے مراد یہ ہے کہ ضرورت مند کی ضرورت پوری ہو اور اللہ کے حقوق کے ساتھ ساتھ بندوں کے حقوق کا بھی خیال رکھا گیا ہو۔آٹھویں خصوصیت اس آیت میں جو بیان ہوئی ہے وہ روزے رکھنا ہے۔یعنی اپنے آپ کو خواہش کے مطابق کھانے پینے اور دوسرے بہت سے اعمال سے باز رکھنا ہے اور دوسرے انسان کو نقصان پہنچانے کا خیال بھی دل میں نہ لانا ہے۔نویں خصوصیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو جسم دیا ہے اس کی صحیح حفاظت کریں۔زبان قدرت کا ایک خاص تحفہ ہے۔اسے بری باتوں کے لئے استعمال نہ کریں۔کان سننے کے لئے دیئے گئے۔لیکن ان سے برائیاں نہ سنیں۔دماغ سے دوسروں کو نقصان پہنچانے والی سکیمیں نہ بنا ئیں۔ناک سونگھنے کے لئے دیا گیا ہے اسے دوسروں کے معاملات میں تجسس کیلئے استعمال نہ کریں۔آنکھیں دیکھنے اور قدرت کا نظارہ کرنے کے لئے اور اس کی پہچان کیلئے دی گئی ہیں کہ انسان اپنی پیدائش کی غرض کو پہچان سکے۔ان کو دوسروں میں بُرائیاں تلاش کرنے کیلئے کام میں نہیں لانا چاہئے۔مزید یہ بھی ضروری ہے کہ ہر مرد اور ہر عورت اپنی عزت و عصمت و پاکیزگی کی حفاظت کرے۔دسویں خصوصیت جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے مرد اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والی عورتیں ہیں۔آپ نے فرمایا ذکر سے مراد سبحان الله ، الحمد لله ، اللہ اکبر کا بار بار دہرانا ہی نہیں ہے۔بلکہ اس بات کا یقین رکھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام صفات کا مالک ہے اور اس نے ہمارے لئے جو چیزیں بنائی ہیں۔ان کے لئے اس کا شکر گزار ہوتے ہوئے ان سے صحیح فائدہ اُٹھانا اور اللہ تعالیٰ کو ہر لمحہ یا درکھنا ہے اور اس آیت میں یہ بھی بیان کیا ہے کہ جو انسان ان تمام چیزوں کو اپنے اندر رکھتا ہے اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور وہ اس دنیا میں اور آخری دنیا میں عظیم انعام سے نوازا جائے گا۔(از سالانہ رپورٹ لجنہ ہالینڈ 1989ء)