خطابات مریم (جلد دوم) — Page 517
خطابات مریم 517 خطابات ہزاروں ہزار درود اور سلام اس پر ) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔اس کے عالی مقام کا انتہاء معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے۔اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔وہ تو حید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔اُس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی اس لئے خدا نے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا اس کو تمام انبیاء اور تمام اولین و آخرین پر فضیلت بخشی۔(روحانی خزائن جلد 22، حقیقۃ الوحی صفحہ 118-119) حضرت مسیح موعود کی بعثت کا اولین مقصد بھی تو حید کا قیام تھا۔اُس خالص تو حید کا جس میں کسی قسم کے شرک اور بدعت کی ملونی نہ ہو۔الحمد للہ جماعت اب تک تو حید کے اعلیٰ مقام پر قائم رہی ہے۔لیکن جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے سورۃ النصر میں توجہ دلائی ہے۔کہ جب آپ دیکھیں کہ لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں۔تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کریں۔اور اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگیں اس میں اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جب کثرت سے لوگ اسلام قبول کرینگے تو بہت سے ان میں سے اپنے سابقہ مذہب اور سوسائٹی کی کمزوریاں بھی ساتھ لے آئیں گے۔جس سے محفوظ رہنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنی ہے۔ہر زمانہ میں ایسا ہو سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے نشانات ظاہر ہورہے ہیں۔باوجو د مخالفت کے کثرت سے لوگ احمدیت میں داخل ہو رہے ہیں۔اگر ان کی تربیت نہ کی گئی تو ڈر ہے کہ جو بُرائیاں نئے آنے والے اپنے ساتھ لائیں وہ معاشرہ میں پھیل نہ جائیں۔مجھے کہنے کی ضرورت نہیں آپ جانتی ہیں کہ پاکستان میں اسلام کی محبت کا دعوی کر نیوالوں میں کئی قسم کی بدعتیں شرک کی حد تک پھیل چکی ہیں۔قبروں پر جا کر مانگنا، چادر میں اور پھول چڑھانا، مرنے والے کی فاتحہ خوانی کرنا، قل، چالیسواں وغیرہ جن کا ثبوت نہ قرآن مجید سے ملتا ہے نہ آنحضرت ﷺ کی سنت سے نہ آپ کے قول سے اور نہ ان بدعتوں کے وجود کا ثبوت آپ کے عرصہ بعد تک کے زمانے میں پائے جانے کا ملتا ہے۔مسلمانوں نے کچھ رسومات عیسائیوں سے لیں کچھ ہندؤوں سے دوسرے ممالک میں بھی ان کا وجود نہیں ملتا۔