خطابات مریم (جلد دوم) — Page 516
خطابات مریم 516 خطابات ނ اس سلسلہ میں یہ بھی عرض کرونگی جو لجنات کی تعداد ہمارے پاس در ج اور منظور شدہ ہے۔وہ 950 ہے اور جتنے مقامات سے چندہ آیا ہے ان کی تعداد 853 بنتی ہے۔بعض دفعہ ایسی جگہ سے چندہ آ جا تا ہے۔جہاں لجنہ اماء اللہ کی ممبرات کی تعداد 3 سے کم ہوتی ہے۔لجنہ قائم نہیں ہوتی مگر چندہ بھجوا دیتی ہیں۔ضلعی صدروں کو چاہیے کہ اگر تو تعداد تین سے زائد ہے تو لجنہ قائم کر کے منظوری لیں۔اگر لجنہ قائم نہیں تو اس گاؤں کی عورتوں کو کسی ساتھ کے گاؤں سے منسلک کریں۔جہاں وہ اپنا چندہ دیں۔دوروں کی اصل غرض لجنات کو بیدار کرنا اور مرکزی لجنہ - اس کے تعلق کو مضبوط کرنا ہے۔لیکن نتیجہ یہ ہے کہ گذشتہ سال کے مقابلہ میں پہلے چار ماہ کی رپورٹوں کی تعداد کم ہے۔پھر دو ماہ قریباً برابر اور مئی 1988 ء سے تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔سالانہ رپورٹیں صرف 157 لجنات کی طرف سے موصول ہوئی ہیں یہ کل تعداد کا %16۔9 بنتا ہے۔جو آپ کی ستی پر دلالت کرتا ہے۔قرآن مجید کی روشنی میں تو کم از کم پچاس فیصد کام ضرور ہونا چاہیے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مصلح موعود کو الہاماً فرمایا تھا کہ پچاس فیصد عورتوں کی اصلاح کر لو تو احمدیت کو ترقی حاصل ہو جائیگی۔آپ کی رپورٹیں بتاتی ہیں کہ ابھی تو پچاس فی صد کے معیار سے بھی ہم بہت دور ہیں۔اس طرف توجہ کی ضرورت ہے۔تعلیم اور تربیت دونوں نہایت ہی اہم شعبے ہیں۔اور ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔جب تک دین کا صحیح علم نہیں ہوتا ہم عمل بھی نہیں کر سکتے۔اور جب تک عمل نہیں کر سکتے تو سیکھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔گویا شعبہ تعلیم کے سپر د دینی تعلیم دینا اور شعبہ تربیت کے ذمہ ان اصولوں پر عمل کرنا ہے۔مذہب کا سب سے بڑا مقصد حقیقی توحید کا قیام ہے۔ہر نبی نے تو حید کی تعلیم دی لیکن جس شان سے حضرت محمد ﷺ نے توحید کا قیام فرمایا اس کی مثال نہیں ملتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حقیقۃ الوحی میں فرماتے ہیں :۔میں ہمیشہ تعجب کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے۔