خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 505 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 505

خطابات مریم 505 خطابات دوره فیصل آباد (11/فروری1988ء) حضرت سیدہ صد ر صاحبہ لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے حاضرین کو اپنے خطاب سے نوازا۔آپنے تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔تقریباً ساڑھے چار سال کے بعد فیصل آباد کی بہنوں سے کچھ کہنے کا موقع ملا ہے۔آپ نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری دنیا کیلئے اُسوہ حسنہ بنا کر بھیجا ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ آپ کے اُسوہ کو اپنائے بغیر ہم کسی کی تربیت کر ہی نہیں سکتے۔کسی کی تربیت کرنے کیلئے آپ کی کامل ذات ہی نمونہ کے طور پر پیش کی جاسکتی ہے۔اس لئے لجنہ کو کثرت سے سیرت پاک کے جلسے کرنے چاہئیں جیسا کہ حضرت امام جماعت احمدیہ نے ارشاد فرمایا ہے۔آپ نے کہا دین فطرت انسان کی ساری زندگی پر حاوی ہے اور ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔اس کے اصولوں پر چلنے سے دنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے اور معاشرہ کی اصلاح ہو سکتی ہے اگر ہر تنظیم کے افراد اپنی تنظیم کے کاموں میں دلچسپی لیں تو بہت جلد جماعت کو ترقی حاصل ہوسکتی ہے۔یہ شکایت عام ہے کہ اجلاسوں میں حاضری کم ہوتی ہے۔اجلاسوں کے پروگرام اس لئے بنائے جاتے ہیں کہ تمام ممبرات کو ساری باتوں کا علم نہیں ہوتا اگر کچھ لوگوں کو ان باتوں کا علم بھی ہو تو انہیں اجلاسوں میں جانے سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا کیونکہ وہاں تو انہوں نے خدا کی خاطر آنا ہے۔دین حق کی سر بلندی اور حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی جماعت کی مضبوطی کیلئے آنا ہے اور قدرت ثانیہ کے مظاہر کی اطاعت کی خاطر آنا ہے۔مالی قربانی تو ثانوی حیثیت رکھتی ہے حقیقی قربانی تو وقت اور جان کی قربانی ہے۔پس اپنی مستیوں اور کوتاہیوں کو چھوڑ دیں ہم بہت بد قسمت ہوں گے اگر احمدیت کی ترقی میں ہماری کوششیں شامل نہ ہوں۔انسان کی پیدائش کی غرض اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنا ہے۔پاک معاشرہ کا قیام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت بڑا احسان ہے اور پاکیزگی صرف جسمانی نہیں بلکہ روحانی صفائی ہے جس میں گھر، جسم اور دل کی صفائی شامل ہے۔