خطابات مریم (جلد دوم) — Page 491
خطابات مریم 491 خطابات بڑا ہو کر تناور درخت بن جاتا ہے جس کی چھاؤں میں سینکڑوں لوگ پناہ لیتے ہیں۔خدا تعالیٰ آپ کو یہاں مصلحتوں کے تحت لایا ہے ان ترقی یافتہ قوموں سے گھبرائیں نہ کہ ہم تعداد میں تھوڑے ہیں۔آپ دعائیں کریں کہ آپ کے قدم مضبوط ہوں۔آپ کے ایمان میں برکت ہو اور بڑی مضبوط جماعتیں قائم ہوں۔ہمیشہ چھوٹی جماعتوں کو بڑی جماعتوں پر غلبہ حاصل ہوتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قلیل جماعت کو اس لئے غلبہ حاصل ہوتا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے۔آپ نے سورہ تو بہ اور سورۃ المومنون سے حوالے دیتے ہوئے فرمایا کہ مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ان کے اندر جھگڑا نہیں ہوتا۔ایک دوسرے کی بُرائیاں نہیں کرتے۔غیبت نہیں کرتے ، دینی و دنیاوی کاموں میں مدد کرتے ہیں اور وہ ہاتھ کی پانچ انگلیاں ہیں اچھے کاموں کا ایک دوسرے کو حکم دیتے ہیں پس خدا کی رضا کو حاصل کریں۔ایک دوسرے کی معاون بنیں اکڑنا نہیں، تکبر نہیں کرنا۔دوسرے کا سہارا بننا ہے۔دین کا مطلب ہے کہ دوسروں کی بُرائیاں چھڑوا دو اور نیکیوں میں مدد دو۔حدیث قدسی ہے کہ بُرا کام ہاتھ سے روکو اگر اس کی طاقت نہیں تو زبان سے روکو اگر اس کی بھی طاقت نہیں تو کم از کم دل میں بُرا سمجھیں اور یہ ایمان کا کمزور درجہ ہے۔آپ یہاں کی نقالی ہرگز نہ کریں۔ان کی تہذیب اور مذہب اور ہے ہمارا اور ہے کہ اگر ہم نے پردہ نہیں کیا تو کیا ہو جائے گا۔اگر ہم نے اجلاس اٹینڈ نہیں کئے تو کیا ہو جائے گا ؟ اگر ہم نے چندہ نہ دیا تو کیا ہو جائے گا ؟ اُمت محمدیہ کو یہ حکم دیا گیا کہ ایک دوسرے کو نیکیوں کا حکم دو۔بُرائیوں سے روکو، نماز قائم کرو، نماز وہ نیکی ہے جس کو اگر با قاعدگی سے ادا کیا جائے تو انسان بہت سی بُرائیوں سے بچ جاتا ہے۔نماز کی روحانی طاقت بُرائی سے بچالیتی ہے۔ایمان بغیر عمل کے نہیں پنپتا خدا کا پیار حاصل کرنے کیلئے قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔جذبات، اولاد، وقت اور مال کی قربانی۔چندہ دینے والی جماعت کیلئے اگر یہ تسلسل ٹوٹ جائے تو ان کے اندر وہ زندگی قائم نہیں رہ سکتی۔مومن مرد اور مومن عورت کی نشانی ہے کہ وہ خدا اور رسول کی مکمل اطاعت کرتے ہیں۔قرآن کریم پر غور کریں وہ عدل وانصاف، غیروں سے محبت کا سلوک اب بھی نظر آنا چاہئے مائیں تربیت اولاد پر توجہ دیں۔خود اعتمادی اور محنت کا جذبہ ان میں پیدا کر یں۔تب ہی خدا کا پیارا نہیں مل سکتا ہے