خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 490 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 490

خطابات مریم 490 خطابات لجنہ اماءاللہ فرینکفورٹ کی نیشنل اور لوکل عاملہ سے خطاب جرمنی میں دوروں کے دوران سیدہ صدر صاحبہ کے ناقابل فراموش خطابات کا خلاصہ درج ذیل ہے۔آپ نے فرمایا: مذہب کی جڑ خدا شناسی اور معرفت نعماء الہی ہے اور اس کی شاخیں اعمال صالحہ اور اس کے پھول اخلاق فاضلہ ہیں اور اس کا پھل برکات روحانیہ اور نہایت لطیف محبت ہے جو رب اور اس کے بندہ میں پیدا ہو جاتی ہے اور اس پھل سے متمتع ہونا روحانی نقدس و پاکیزگی کا مثمر ہے“۔(روحانی خزائن جلد 2 ، سُرمه چشم آریہ صفحہ 281) آپ نے فرمایا کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل دنیا پر روحانی اور اخلاقی اندھیرے تھے آپ اپنے ساتھ مکمل طریقہ حیات قرآن پاک کی صورت میں لائے اور دنیا کو تاریکی سے نکال کر روشنی کی طرف لے گئے۔آج کے تہذیب یافتہ لوگ جدید فلسفے یا عیسائیت کی تعلیم کو روشنی سمجھتے ہیں۔جدید تہذیب روشنی نہیں جس کے ساتھ عزیز خدا ہے وہ دشمنوں پر غالب ہے ظاہر اندھیرے نہیں جس کے ساتھ خدا ہے وہ اندرونی اندھیروں پر بھی غالب ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ یہ دونوں قرآنی وعدے پورے ہوئے اور مسلمان دنیا پر نہ صرف غالب ہوئے بلکہ علوم کی بنیاد ڈالنے والے ہوئے لیکن جب انہوں نے قرآنی تعلیم پر عمل کرنا چھوڑ دیا تو ذلت کے گڑھے میں گر گئے اور خدا تعالیٰ کے رحم نے جوش مارتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دنیا میں بھیجا کہ وہ لوگوں کو قرآنی تعلیم کے ذریعہ پھر سے جگائیں۔آپ کی حیثیت ایک بیج کی طرح ہے جس طرح باغ میں بیج لگایا جا تا ہے پانی دیا جا تا ہے