خطابات مریم (جلد دوم) — Page 450
خطابات مریم 450 دورہ ڈسکہ ضلع سیالکوٹ خطابات 6 فروری 1986 ء کو عہدیداران کے اجلاس میں آپ نے فرمایا کہ ایک لمبی مدت کے بعد میں یہاں حاضر ہوئی ہوں آپ نے بھی غفلت دکھائی اور ہم سے بھی کوتاہی ہوئی جس کی وجہ سے یہ ضلع بہت پیچھے رہ گیا ہے آپ نے اس امر کو واضح فرمایا کہ جس لجنہ سے زیادہ رابطہ رکھا جائے اس میں بیداری پیدا ہوتی ہے گاہے بگا ہے جھنجوڑ نا ضروری ہوتا ہے صدر ضلع نے اس ضلع کا دورہ کرنے کی طرف توجہ نہیں دلائی موجودہ دور میں رابطہ اور بھی زیادہ ضروری ہو چکا ہے انہی حالات میں کئی ضلعوں کا دورہ کیا گیا ہے جہاں بہت بڑے بڑے جلسے بھی کیسے گئے لیکن سیالکوٹ میں بہت محدود پروگرام ہے زیادہ سے زیادہ مجالس کو اس میں شرکت کر کے فائدہ اٹھانا چاہئے تھا۔حضرت سیدہ صدر صاحبہ نے فرمایا کہ میری تمام گزارشات غیر حاضر عہدیداران کو بھی پہنچائی جائیں نیز ان سے نہ حاضر ہونے کی وجہ دریافت کر کے مجھے اس کی اطلاع دی جائے خطاب جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ موجودہ حالات میں تو ہماری ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا ہے عورتوں اور مردوں کو مل کر کام کرنا چاہئے اگر یہی سستی اور جمود طاری رہا تو اس سے وہ مقصد پورا نہیں ہوگا جس کے لیے حضرت مسیح موعود تشریف لائے صرف چندہ جمع کر لینا ہی کام نہیں اصل چیز یہ ہے کہ ہم اسلام کی ترقی کے مقاصد کو پورا کرنے والی بنیں آپ نے خلیفہ وقت کے ہاتھ پر بیعت کی ہے اور جن نیک باتوں اور شرائط کا عہد کیا ہے اسے پورا کرنے میں کو تا ہی دکھا رہی ہیں۔فرمایا کہ لجنہ کی تنظیم کے تحت شوق ، جذبہ اور لگن کے ساتھ کام کریں تمام صدر میں اپنے اپنے دیہات میں جہالت کا مکمل طور پر خاتمہ کریں اور اس بات کی نگرانی کریں کہ کوئی لجنہ اس تعلیم سے جتنی دیہات میں موجود ہے اس سے محروم نہ رہ جائے۔احمدی گھرانوں کا سروے کریں اور ہر بچہ کوتعلیم کی طرف توجہ دلائیں کیونکہ چراغ سے چراغ روشن ہوتا ہے آپ کی شکایت جائز نہیں کہ ہمیں کیسٹس نہیں ملتیں آپ امیر ضلع سے رابطہ رکھیں اور لجنہ کی مجالس خود کیسٹ خریدیں۔اجلاسوں میں بھی اور انفرادی طور پر بھی اس کو سنوانے کا انتظام کریں۔آپ