خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 426 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 426

خطابات مریم 426 خطابات خطاب عہد یداران شہر واضلاع پاکستان منعقدہ 3 نومبر 1984ء آپ نے اس میٹنگ کے انعقاد کی غرض بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ہر سال سالانہ اجتماع کے موقع پر بیرون سے آنے والی مجالس کی عہدیداران کو نئے سال کے لئے ہدایات دی جاتی تھیں۔اس سال حالات کی وجہ سے اجتماع منعقد نہ ہو سکا جس کی وجہ سے عہد یداران کو یہاں بلانا پڑا۔آپ نے عہدیداران پر واضح فرمایا کہ موجودہ حالات ہمارے لئے بڑے ابتلاء اور آزمائش ہیں کیونکہ ہمارے امام ہم سے بہت دور ہو گئے ہیں۔قریب رہ کر ہم خلیفہ وقت سے جو فیض حاصل کر رہی تھیں اس سے اب محروم ہیں۔گولیسٹس کے ذریعہ ہم تک آپ کے ارشادات پہنچ رہے ہیں۔یہ جدائی ہمارے لئے بڑی ابتلاء ہے۔آپ نے فرمایا حالات کا تقاضہ ہے کہ حضور جب بھی ہمارے درمیان واپس آئیں تو وہ ہم سے خوش ہوں۔جماعت کمزور نہیں سو ہمارے قدم پھیلنے نہیں چاہئیں بلکہ ہمیں اس آزمائش پر پورا اترنا چاہئے۔مالی قربانیاں پیش کرنا تو ہمارا وطیرہ رہا ہے لیکن اصل چیز اپنے ایمانوں کو سلامت رکھنا ہے۔ہمارے اندر بہت کمزوریاں پیدا ہو چکی ہیں۔مجھے ڈر ہے کہ وہ کمزوریاں آئندہ نسل میں منتقل نہ ہو جائیں لہذا ہمیں اپنی تربیت کی طرف سب سے پہلے توجہ دینی ہوگی۔نیز فرمایا اپنے حالات کا جائزہ لیں۔اپنی لجنات کی کمزور نمبرات کو نہایت پیار سے سمجھا ئیں ہر احمدی خاتون کا اپنی تنظیم سے تعلق ہونا چاہئے۔آپس کے تمام اختلافات اور جھگڑوں کو بھول جائیں۔پہلے سے بڑھ کر منتظم اور متحد ہو جائیں۔تربیتی امور کی طرف توجہ دینے کی بہت ضرورت ہے۔یہ بھی کافی نہ سمجھیں کہ ہم نے چندہ بھیج دیا یا چیزیں بھیج دیں اور کتابیں پڑھ لیں