خطابات مریم (جلد دوم) — Page 422
خطابات مریم 422 خطابات کی غرض الباماً بتائی کہ یعنى يُحْيِ الدِّينَ وَيُقِيمُ الشَّرِيعَةَ (تذکرہ: صفحه 55) کہ آپ کے ذریعہ اسلام پھر زندہ ہو گا یعنی اسلام کی تعلیم پر دنیا عمل کرنے لگ جائے گی اور شریعت کے احکام قائم کئے جائیں گے اور یہ سب کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ حسنہ پر چل کر ہی ہوسکتا ہے۔ان اعلیٰ اقدار اور اخلاق کو رائج کرنے سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کئے ظاہری اور باطنی صفائی ، کھانے پینے میں سادگی ، لباس اور زیور میں سادگی، رہائش میں سادگی ، اللہ تعالیٰ سے محبت اور اس پر تو کل، بنی نوع انسان سے حسن سلوک حمل ، انصاف، دوسرے کے جذبات کا احترام، غرباء کا خیال اور ان کے جذبات کا احترام، ہمسایوں سے سلوک ، ماں باپ اور دوسرے رشتہ داروں سے حسن سلوک، نیک صحبت اختیار کرنا ، لوگوں کے ایمان کی حفاظت کا خیال یعنی کوئی ایسی حرکت نہ کرنا جس سے دوسرے کو ٹھوکر لگے، دوسروں کے عیوب کو چھپانا ، تکلیف پر صبر کرنا ، تعاون باہمی ، چشم پوشی، سچائی کا قیام ، تجس سے بچنا اور نیک ظنی کرنا، خرید و فروخت میں دھوکا بازی سے بچنا اور فریب دینے سے نفرت، مایوسی قوم میں پیدا نہ ہونے دینا ، وفائے عہد یہ وہ اوصاف ہیں جن کو قائم کرنے سے ایک حسین معاشرہ قائم ہو سکتا ہے اور جن پر عمل کرنے سے دنیا ہماری طرف جھکنے پر مجبور ہوگی نہ کہ ہم ان کی نقل کرنے پر۔ان امور کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ قرآن پڑھیں قرآن کو عزت دیں، قرآن کی تعلیم پر عمل کریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق پر چلیں آپ کی زندگی کو اپنے لئے نمونہ بنا ئیں۔حضرت مصلح موعود کی بیان فرمودہ بشارت حضرت مصلح موعود نے دیباچہ قرآن مجید میں تحریر فرماتے ہوئے دنیا کو یہ بشارت دی تھی کہ:۔”ہمارے ذریعہ سے پھر قرآنی حکومت کا جھنڈا اونچا کیا جا رہا ہے اور خدا تعالیٰ کے کلاموں اور الہاموں سے یقین اور ایمان حاصل کرتے ہوئے ہم دنیا کے سامنے پھر قرآنی فضیلت کو پیش کر رہے ہیں۔دنیا خواہ کتنا ہی زور لگائے ، مخالفت میں کتنی ہی بڑھ جائے۔گو دنیا کے ذرائع ہماری نسبت کروڑوں کروڑ گنے زیادہ ہیں لیکن یہ ایک