خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 406 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 406

خطابات مریم 406 خطابات جاننے والی بہنیں انگریزی میں تیار کر کے بطور نمونہ مرکز کو بھجوائیں جن میں سوال و جواب کے رنگ میں بچیوں کے لئے اسباق ہوں اور ایسی ضروری دینی تعلیم جو بچیوں کو دینی ضروری ہوتی ہے اسے سنایا جائے۔کیونکہ سن کر یاد کر نا پڑھنے کی نسبت بہت آسان ہے۔گزشتہ جلسہ سالانہ پر حضرت خلیفہ اسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ نے جو معرکۃ الآراء خطاب بہنوں میں فرمایا تھا۔جس میں احمدی بچیوں اور بہنوں کو پردہ قائم رکھنے کی توجہ دلائی تھی۔لجنہ مرکز یہ نے فوری چھپوا کر ہر جگہ بھجوایا۔پاکستان میں بھی اور پاکستان سے باہر بھی۔دو تین دفعہ چھپوایا گیا تا کہ کوئی بہن ایسی نہ رہ جائے جو حضور کے ارشاد سے ناواقف ہو۔الحمد للہ اس کے بعد ایک نمایاں تبدیلی احمدی جماعت کی خواتین اور بچیوں میں پیدا ہوئی ہے لیکن اپنے امام کی آواز پر لبیک کہنا ہر احمدی بچی اور خاتون کا فرض تھا۔سالانہ رپورٹیں ظاہر کرتی ہیں کہ ابھی تک گو تھوڑی تعداد میں مگر ایسی عورتیں موجود ہیں جو صحیح طور پر پردہ نہیں کرتیں اور جنہوں نے چادر چھوڑ کر بھی برقعہ نہیں لیا۔میری بہنو اسلام کی تعلیم کا محور اطاعت ہے اللہ تعالیٰ کی اطاعت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور پھر خلیفہ وقت کی اطاعت غیر مشروط اطاعت یہود اور منافقین والی نہیں جن کے متعلق قرآن مجید میں آتا ہے جو کہتے تھے کہ تمہارے مطلب کا حکم دیا جائے تو مان لیا کرو ورنہ نہیں۔اگر ایک عورت بھی ایسی نکلتی ہے جس کے کانوں تک خلیفہ وقت کی آواز پہنچتی ہے اور وہ اس پر عمل نہیں کرتی تو حقیقت میں وہ احمدی جماعت میں نہیں۔کیونکہ بیعت کرتے وقت آپ عہد کرتی ہیں کہ جو آپ نیک کام بتائیں گے ہم اس پر عمل کریں گی۔ہمارا شعار ہمارا نعرہ تو صرف اور صرف سَمِعْنَا وَ أَطَعْنَا ہونا چاہئے۔پاکستان سے باہر بہت سی جگہ بے پر دہ خواتین کو دیکھ کر انتہائی تکلیف پہنچی کہ ایک طرف تو ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ ساری دنیا کو اسلام کا پیغام پہنچانا ہے دوسری طرف خود اسلام کے ایک حکم کی صریحاً نافرمانی کر رہی ہیں اور خصوصاً ان بچیوں کو دیکھ کر جور بوہ سے شادی ہو کر باہرگئی ہیں۔اس وقت ربوہ سلسلہ کا مرکز ہے جتنی یہاں دینی تعلیم اور تربیت کی طرف توجہ دی جارہی ہے اتنی کسی اور جگہ نہیں دی جا سکتی۔ہر جمعہ آپ حضرت خلیفۃ المسح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ کا خطبہ سنتی ہیں۔پس میں تمام خواتین کو لیکن خواتین ربوہ ا