خطابات مریم (جلد دوم) — Page 403
خطابات مریم 403 خطابات نسل ماں کی گود سے پروان چڑھتی ہے۔لجنہ اماءاللہ کا کارواں اپنی زندگی کا اکسٹھواں سال ختم لجنہ اماءاللہ کا 61 واں سال کر کے نئے سال میں داخل ہو رہا ہے یہ سال کئی لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے اس سال محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے لجنہ اماء اللہ کا قدم ترقی کی طرف گامزن رہا ہے۔تمام سیکرٹریوں اور خصوصاً جنرل سیکرٹری لجنہ اماءاللہ نے عاجزہ کے ساتھ مکمل تعاون کیا اسی طرح لجنات کی عہدیداروں نے بھی ضلعی نظام کو اس سال مضبوط کرنے کی پوری پوری کوشش کی مجلس مشاورت کے دنوں میں ضلعی صدروں کی پہلی میٹنگ منعقد کی گئی اور کام کرنے کی ہدایات دی گئیں اکثر ضلعوں کی صدروں نے بہت محنت کی جس کے نتیجہ میں نئی بجنات کا قیام ہوا۔چندہ دہند مجالس کی تعداد میں اضافہ ہوا اور چندہ کی مقدار میں بھی اضافہ ہوا جس کا خلاصہ درج ذیل ہے۔اس سال 34 ضلعوں میں ضلعی صدر میں نامزد کی گئیں۔شعبہ مال کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال بلجنات کی تعداد 656 تھی اس سال 818 ہے گویا 162 لجنات کا اضافہ ہوا لبعض نئی قائم ہوئیں بعض کا احیاء کیا گیا گزشتہ سال چندہ دہند لجنات کی تعداد 562 تھی اور اس سال 740 ہے یعنی 178 کا اضافہ ہوا نا دہند لجنات کی تعداد گزشتہ سال 84 تھی اس سال 78 ہے گویا 6 کی کمی آئی۔بعض لجنات کا قیام ہی ستمبر میں ہوا ہے وہ انشاء اللہ نئے سال سے بھجوا نا شروع کریں گی۔لجنہ اماء اللہ کی آمد میں گزشتہ سال کی نسبت 739 ،3،26 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔جنوری 1983 ء سے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کی تعمیل میں لجنہ اماء اللہ کے تمام کارکنان کے مشاہروں میں 33 فیصدی کا اضافہ کیا گیا ہے اور گزشتہ سال مجلس شوری کے فیصلہ کے مطابق ہر ضلع کے چندہ کا پانچ فیصد ضلعی صدروں کو اخراجات کیلئے دیا گیا۔گزشتہ سال اجتماع پر میں نے تحریک کی تھی کہ ناصرات کے لئے بہنیں چھوٹی چھوٹی کتب کتابیں لکھیں جو اسلام اور احمدیت کی تاریخ سے متعلق ہوں۔اس پر عمل کرتے ہوئے صرف پانچ بہنوں نے 9 کتب کے مسودات بھجوائے ہیں۔علماء کو دکھانے کے بعد ان میں سے ایک کتابچہ پہلی مسلمان عورت یعنی حضرت خدیجہ کے حالات زندگی جو مکر مہ خالدہ آفتاب صاحبہ