خطابات مریم (جلد دوم) — Page 17
خطابات مریم 17 تحریرات کوئی بولنا چاہے تو بولے“۔چنانچہ حضور کی اجازت ملنے اور باہمی مشورہ کرنے کے بعد مکرمہ استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ نے عورتوں کی طرف سے رائے کا اظہار کیا۔( تاریخ لجنہ جلد اول صفحہ 220، 221 ) پھر دوسری بار 1929ء کی شوریٰ میں عورتوں کو حق نمائندگی ملنے کی تجویز زیر بحث لائی گئی اس موقع پر حضرت مصلح موعود نے پھر عورتوں کو بولنے کی دعوت دی اور فرمایا کہ جو چاہیں بول سکتی ہیں اس پر استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ نے حسب ذیل تقریر کی۔سید نا وامامنا السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ میں صرف اتنا پوچھنا چاہتی ہوں جب ہمارے لئے درس گا ہیں اس لئے کھولی جا رہی ہیں کہ ہم علم حاصل کر کے تبلیغ اسلام کریں تو کیا یہ بات ہمارے لئے سدِ راہ نہ ہوگی کہ قوم ہمارے لئے فیصلہ کر دے کہ عورتوں کو مجلس مشاورت کی نمائندگی کا حق حاصل نہیں جب ہم عورتوں کے سامنے اپنے خیالات پیش کریں گے تو وہ یہ جواب دیں گی کہ تمہارے مذہب نے تو تمہارے لئے مشورہ کا حق بھی نہیں رکھا اس لئے تمہاری بات ہم نہیں سنتیں“۔( تاریخ لجنہ جلد اوّل صفحہ 219) جلسہ سالانہ کا جہاں تک ریکارڈ محفوظ ہے۔سب سے پہلی تقریر آپ نے 1918ء کے جلسہ سالانہ پر کی تھی۔( تاریخ لجنہ جلد اول صفحہ 230 ) لجنہ اماءاللہ امرتسر نے اپنا سالانہ جلسہ 7 / دسمبر 1929ء کو منعقد کیا جس میں قادیان سے استانی میمونہ صوفیہ صاحب بھی لیکچر دینے کیلئے گئیں۔( تاریخ لجنہ جلد اوّل صفحہ 251) 1933 ء سے قریباً ہر جلسہ سالانہ پر استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ نے تقریر کی۔شروع 1935ء میں مخالفت کا زور تھا اور ہر طرف سے مخالفین فتنہ اور شرارت پھیلا رہے تھے۔ہفتہ کے دن حضرت مصلح موعود عورتوں میں قرآن مجید کا درس دیا کرتے تھے۔درس کے دن عورتوں کا بہت ہجوم ہوتا تھا لجنہ نے فیصلہ کیا کہ حفاظت کے خیال سے ایسی عورتیں مقرر کی جائیں جو کسی اجنبی یا مشتبہ عورت کو قریب نہ بیٹھنے دیں۔چنانچہ جن خواتین کو مقرر کیا ان میں سے ایک استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ بھی تھیں۔اسی طرح درس القرآن جو حضرت مصلح موعود مستورات میں فرماتے