خطابات مریم (جلد دوم) — Page 380
خطابات مریم 380 خطابات ہوا ہے میں سوچ رہی تھی کہ یورپ میں باقی جگہ چھوٹی چھوٹی جماعتیں ہیں جس طرح ربوہ میں سب جگہ تربیتی کلاسوں اور اجتماع کے موقع پر بچیاں آتی ہیں تا ان کی تربیت ہو اسی طرح لندن میں یہ انتظام ہونا چاہئے کہ تمام یورپین ممالک سے احمدی بچیاں تربیتی کلاسوں اور اجتماع کے موقع پر آ ئیں جہاں مقابلہ جات میں شرکت کریں اور انگلستان کی لجنہ مرکز یہ ان کی تعلیم و تربیت کی نگرانی کرے پس میں اس امر کی تائید کرتی ہوں کہ لجنہ برطانیہ ان کو آہستہ آہستہ اپنے پروگراموں میں شمولیت کی دعوت دیں اور جہاں بھی انگریزی جاننے والی بچیاں ہیں وہ ان میں شامل ہو کر فائدہ اُٹھائیں لیکن یا درکھیں کہ تربیت کا سب سے بڑا ذریعہ قرآن شریف ہے۔حضرت مصلح موعود کا ایک شعر ہے جو آپ نے اپنے بچوں کی آمین پر کہا تھا۔شہر لولاک نعمت لاتے تو اس دنیا سے ہم اندھے ہی جاتے یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اگر یہ نعمت ہمیں نہ ملتی قرآن نہ ہوتا تو ہم روحانی اندھے ہوتے۔نہ ہمارا اپنے رب سے تعلق ہوتا نہ روحانی ترقی۔پس ضروری ہے کہ قرآن پڑھا جائے اور اس کا ترجمہ سیکھا جائے۔میں نے جو آیت پڑھی ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کتاب یعنی قرآن مجید ہم نے نازل کی ہے جس کتاب کو نازل کرنے والا خدا ہے اسی نے سب کو پیدا کیا ہے اس کو انسان کی ہر ضرورت کا علم ہے اس لئے جو بھی مسئلہ پیدا ہو قرآن سے اس کا حل تلاش کرو وہیں ملے گا اس کی پیروی کرنے سے اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل ہوگا۔اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ اگر تم مومن رہے تو ساری دنیا پر غالب رہو گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمان پہلے ساری دنیا پر چھا گئے۔یکے بعد دیگرے ممالک فتح کئے۔علوم کے چشمے بہائے۔قرآن کی بدولت جاہل اور بگڑے ہوئے انسان با اخلاق اور پھر باخدا انسان بنے لیکن افسوس جب انہوں نے خود قرآن پر عمل کرنا چھوڑ دیا تو انتہائی تنزل کی حالت میں جا گرے اور یہ سب کچھ قرآنی پیشگوئیوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے عین مطابق ہوا۔اللہ تعالیٰ نے آخری زمانہ میں مہدی موعود کے غلبہ کے ساتھ وابستہ رکھا تھا اور قرآن مجید میں فرمایا تھا کہ آخرین کی تربیت اور تزکیہ نفس آپ کے ذریعے ہوگا صحابہ نے پوچھا