خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 13 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 13

خطابات مریم 13 تحریرات یہی جواب دیتیں کہ اگر مجھے فارغ بھی کر دیا تب بھی یہیں دفتر ہی میں بیٹھی رہوں گی۔پورے ایک سال کی علالت کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے بلا وا آ گیا۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا اليهِ رَاجِعُون۔میں لجنہ اماءاللہ گوجرانوالہ کے جلسہ میں شرکت کیلئے 5 اکتو بر کو گئی اور اسی دن آپ کی وفات ہوگئی۔واپس 6 کو آئی تو ان کی تدفین ہو چکی تھی۔مرحومہ میں بہت خصوصیات تھیں۔بہت دیندار، نیک ، عبادت گزار تھیں، احمدیت سے محبت تھی ، خلافت سے بے انتہا عقیدت تھی ، کسی قسم کا اعتراض برداشت نہ کر سکتی تھیں ، خود بہت دعائیں کرنے والی تھیں ، حافظہ اچھا تھا، لجنہ کے مرکز میں کام کرنے کی وجہ سے واقفیت بہت تھی۔بیرون ربوہ سے آنے والی خواتین کو دفتر لجنہ کے عملہ میں سے سب سے زیادہ پہچانتی تھیں۔اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند کرے اور ان کی اکلوتی بیٹی کا اور ان کی اولاد کا حافظ و ناصر رہے۔آمین خاکسار مریم صدیقہ صدر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ حلى ☆۔(مصباح نومبر 1980ء)