خطابات مریم (جلد دوم) — Page 12
خطابات مریم 12 تحریرات محترمه سراج بی بی صاحبہ مرحومه لجنہ اماءاللہ کی ایک کارکن کی حیثیت سے تمام خواتین سراج بی بی مرحومہ سے واقف تھیں۔آپ کی والدہ ہاجرہ بیگم مرحومہ کو خاندان حضرت مسیح موعود میں رہنے اور خدمت کرنے کا موقعہ ملا۔حضرت سیدہ ام وسیم مرحومہ کے گھر زیادہ وقت زندگی کا آپ نے گزارا ان کی دو ہی بیٹیاں تھیں۔بڑی سراج بی بی صاحبہ اور چھوٹی عائشہ بیگم۔سراج بی بی صاحبہ نے مڈل پاس کر کے د مینیات کلاسز میں داخلہ لے لیا اور تین سالہ کورس پاس کرنے والا جو سب سے پہلا پیج تھا آپ اس میں شامل تھیں۔آپ کی شادی عبد اللہ صاحب ابن عبدالسمیع صاحب کپور تھلوی سے ہوئی۔ایک بچی پیدا ہوئی جو جلد وفات پا گئی۔آپ نے اس کی وفات پر بڑے صبر وشکر سے کام لیا کچھ عرصہ بعد دوسری بچی اللہ تعالیٰ نے عطا کی جن کا نام شمس النساء ہے جو خواجہ برکت اللہ صاحب طاہر کی بیوی ہیں۔1944ء کے جلسہ سالانہ پر حضرت مصلح موعود نے لجنہ اماءاللہ مرکز یہ قادیان کو توجہ دلائی کہ وہ با قاعدہ دفتر قائم کریں۔کلرک رکھیں تا باہر کی لجنات سے خط و کتابت صحیح رنگ میں ہو سکے تو اس پر سراج بی بی صاحبہ نے اپنے آپ کو اس کام کیلئے پیش کیا۔لجنہ اماءاللہ کا فنڈ اس زمانہ میں بہت ہی کم تھا۔صرف ہیں روپے ماہوار لجنہ نے آپ کو پیش کئے اور آپ نے اسے قبول کر لیا۔بہت محنت ، خلوص سے کام کرتی رہیں۔کوئی وقت مقرر نہ تھا اگر سارا دن بھی کام کرنا پڑتا تو کرتیں۔1947ء میں ہجرت ہوئی۔لاہور آ کر عاجزہ نے سراج بی بی کو بلانے کی درخواست دی۔چنانچہ کچھ ہی دنوں کے بعد وہ آ گئیں اور میرے اور حضرت سیدہ اُم داؤد احمد مرحومہ کے ساتھ مل کر رات دن کام میں لگی رہیں۔ان دنوں زیادہ کام ہندوستان سے آنے والی خواتین اور گھرانوں کو کپڑے، بستر وغیرہ مہیا کرنا تھا۔1945ء سے لے کر 1979 ء تک با وجود صحت بہت کمزور ہو جانے کے کام کرتی رہیں۔6 اکتوبر 1979ء کو ان کا آپریشن فیصل آباد میں ہوا جب بھی کام سے فراغت کا ذکر آتا