خطابات مریم (جلد دوم) — Page 337
خطابات مریم 337 خطابات حضرت اقدس کے والد صاحب کی وفات سے قبل آپ کو بھی انسان ہونے کی حیثیت سے کسی قد رفکر ہوا لیکن اللہ تعالیٰ بہت ہی وفادار اور قدر شناس ہے اسی وقت الہام ہوا۔اليس الله بکاف عبدہ کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کیلئے کافی نہیں۔( تذکرہ صفحہ 20) کیوں فکر کرتے ہو حقیقت تو یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ساری زندگی اس الہام کی صداقت پر مہر لگاتی رہی ہے۔وہ شخص جس کو گھر والے بچے کھچے ٹکڑے کھانے کیلئے بھجوا دیتے تھے آج اس کے دستر خوان سے صرف جلسہ سالانہ پر ہی ڈیڑھ دو لاکھ آدمی کھانا کھا رہے ہیں جلسہ سالانہ پر آنے والا ہر مرد اور عورت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت بزبان حال بیان کر رہا ہوتا ہے اور یہ صرف اس وعدہ کا ایفاء ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے بندہ ے الیس الله بکاف عبدہ کے الفاظ میں کیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو نعمتوں پر نعمتیں عطا فرما ئیں مگر آپ کے دل سے یہی آواز نکلی۔در رو عالم مرا و آنچه میخواهم عزیز توئی از تو تو نیز توئی یعنی دونوں جہانوں میں میرا تو بس تو ہی محبوب ہے اور میں تجھ سے صرف تیرے ہی وصال کا آرزو مند ہوں۔اللہ تعالیٰ نے بھی آپ کی محبت کو نوازا اور پیار بھرے الفاظ میں فرمایا:۔اَنْتَ مِنِى بِمَنْزِلَةِ تَوْحِيدِى وَتَفْرِيدِي أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ وَلَدِى (تذکرہ صفحہ 442) ان الہامات کی تشریح حضرت قمر الانبیاء مرزا بشیر احمد صاحب کے الفاظ میں کرتی ہوں۔آپ فرماتے ہیں:۔یعنی چونکہ اس زمانہ میں تو میری توحید کا علمبردار ہے اور توحید کے کھوئے ہوئے مقام کو دنیا میں دوبارہ قائم کر رہا ہے اس لئے اے مسیح محمدی تو مجھے ایسا ہی پیارا ہے جیسے کہ میری توحید اور تفرید اور چونکہ عیسائیوں نے جھوٹ اور افترا کے طور پر اپنے مسیح کو خدا کا اصل بیٹا بنا رکھا ہے اس لئے میری غیرت نے تقاضا کیا کہ میں تیرے