خطابات مریم (جلد دوم) — Page 334
خطابات مریم 334 خطابات کسی انسان کی سیرت بیان کرنے سے قبل اس کے مقصد زندگی کا علم ہو تو سیرت پر روشنی ڈالتے ہوئے اس کے نتائج کھل کر سامنے آجاتے ہیں کہ وہ انسان جس غرض کے لئے اُٹھا، کیا وہ غرض اس کے وجود سے پوری ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے مجھے مامور کر کے بھیجا ہے تا کہ میں زندہ ایمان زندہ خدا پر پیدا ہیں۔کرنے کی راہ بتلاؤں‘۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 328) پھر آپ نے فرمایا:۔” ہمارا کام اور ہماری غرض ابھی اس سے بہت دور ہے اور وہ یہ ہے کہ تم اپنے اندر ایک تبدیلی پیدا کرو اور بالکل ایک نئے انسان بن جاؤ“۔پھر آپ فرماتے ہیں :۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 352) اللہ تعالیٰ نے ہر زمانہ میں اس کی (یعنی رسول کی۔ناقل ) زندگی کا ثبوت دیا ہے چنانچہ اس زمانہ میں بھی اس نے اپنے فضل سے اس سلسلہ کو اسی لئے قائم کیا ہے تا وہ اسلام کے زندہ مذہب ہونے پر گواہ ہو تا خدا کی معرفت بڑھے اور اس پر ایسا یقین پیدا ہو جو گناہ اور گندگی کو بھسم کر جاتا ہے اور نیکی اور پاکیزگی پھیلا تا ہوں“۔اس مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے آپ کی سیرت کے چار پہلو بہت ہی نمایاں اور درخشاں 1- اللہ تعالیٰ سے محبت اور اس پر تو کل -2- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے انتہائی عشق۔3 اسلام کے غلبہ کی شدید تڑپ اور اس کے لئے دعا و جد و جہد 4 بنی نوع انسان کی اصلاح کی تڑپ اور اس کے لئے خود آپ کا نمونہ سب سے پہلا پہلو آپ کی اللہ تعالیٰ سے محبت اور اس کی ذات پر تو کل کا بیان کرنا ہے آپ نے اپنے وجود کو اللہ تعالیٰ کی ذات کے ثبوت کے طور پر پیش فرمایا ہے۔فرماتے ہیں :