خطابات مریم (جلد دوم) — Page 333
خطابات مریم 333 خطابات ذكر حبيب تقریر جلسہ سالانہ خواتین 1982ء) میری آج کی تقریر کا موضوع ذکر حبیب ہے۔ذکر حبیب پر تقریر تو اس منہ سے ہی حجتی ہے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا ہو اور آپ کی باتیں سنی ہوں میں نے جو کچھ سنا ان صحابہ یا صحابیات سے سنا جنہوں نے وہ باتیں خود حضرت مسیح موعود سے سنی ہیں جو کچھ دیکھا وہ ان آنکھوں سے دیکھا جن آنکھوں نے حضرت مسیح موعود کے مقدس چہرہ کا نظارہ کیا۔اللہ تعالیٰ کی ہزاروں رحمتیں نازل ہوں ان پاک وجودوں پر جن کے ذریعہ سے یہ قیمتی سرمایہ ہم تک پہنچا اور جن کے پڑھنے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت آپ کے اخلاق عالیہ سے ہم واقف ہوئے۔ان صحابہ کرام میں دو ہستیاں سب سے زیادہ جماعت کے شکریہ کی مستحق ہیں۔ایک حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور دوسری حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ جنہوں نے گہری نظر سے آپ کی سیرت کے ایک ایک پہلو کو بیان کیا آپ کا اُٹھنا بیٹھنا، عبادت الہی ، اللہ تعالیٰ پر توکل ، آپ کے اخلاق مخلوق خدا سے سلوک، اسلام کے لئے غیرت ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق۔ہم میں سے جو کوئی بھی اس مضمون کو بیان کرے گا وہ انہی ہستیوں اور صحابہ وصحابیات کے بیان کئے ہوئے واقعات میں سے ہی چنے پر مجبور ہوگا اور ان کی بلندی درجات کیلئے دعا کرے گا۔واقعات کا انتخاب کرتے ہوئے میں نے سوچا کہ کیوں نہ میں ان الفاظ کا انتخاب کروں جو خود حضرت مہدی کے منہ سے اپنے بارے میں نکلے ہیں اور جو آپ کی سیرت پر روشنی ڈالتے ہیں چنانچہ اس تقریر میں اکثریت ان حوالہ جات کی ہی ہے جو حضرت مسیح موعود کے بیان فرمودہ ہیں۔اللهم صل عـلـى مـحـمـد و علی آل محمد و علی عبدک المسیح الموعود