خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 311 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 311

خطابات مریم 311 خطابات اختتامی خطاب سالانہ اجتماع ناصرات الاحمدیہ 1982ء آپ نے فرمایا کہ تھوڑی دیر قبل جب میں یہاں آئی تھی تو بیرون ربوہ کی ناصرات زیادہ تعداد میں تھیں اور ربوہ کی کم تعداد میں حالانکہ ربوہ کی بچیاں زیادہ ہونی چاہئے تھیں ناصرات کی سیکرٹریوں کا فرض ہے کہ خود ناصرات کو انتظام کے تحت لائیں جن اشیاء کی انہیں ضرورت ہو سکتی ہے اس کا پہلے سے بندو بست کر لیں تا کہ اجتماع پر آنے والی بچیوں کا بار بار باہر اُٹھ کر جانے کی وجہ سے وقت ضائع نہ ہو اور وہ مختلف پروگرام سننے سے محروم نہ رہ جائیں۔بچیاں بے مقصد پھرتی ہیں یا لجنہ کی اجتماع گاہ کے پاس باتیں کرتی ہیں جس سے شور ہوتا ہے اس لئے اگر اُن کی تربیت کی طرف ابھی سے پوری توجہ نہ دی گئی تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ لجنہ کی تربیت کرنے میں بہت دشواری ہوگی۔ناصرات کو مخاطب کر کے آپ نے فرمایا کہ آپ کے لئے مرکز میں منتخب پروگرام اس لئے ترتیب دیئے جاتے ہیں کہ جس طرح آپ کھیلوں میں پورے جوش و خروش سے حصہ لے کر ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتی ہیں ان دینی پروگراموں میں بھی اسی نظم و ضبط کے ساتھ حصہ لے کر ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔اگر آپ اجتماع میں شامل ہو کر توجہ سے پروگرام نہ سنیں گی تو آنے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔اسلام تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کی بشارتوں کے مطابق ساری دنیا میں غالب آئے گا۔یہ وعدہ اٹل ہے۔(انشاء اللہ ) اور بیرون پاکستان، امریکہ، افریقہ وغیرہ سے ہزاروں کی تعداد میں خواتین اور بچیاں آئیں گی تو چند سال بعد جب آپ میں سے کچھ بچیاں بڑی ہو چکی ہوں گی تو آنے والی بچیوں کی دینی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری آپ پر ہوگی تو کیا وقت ضائع کرنے والی ناصرات یہ فرض پورا کر سکیں گی ؟ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا یہ گزرتا ہی جاتا ہے۔اس کی قدر کریں جو بچیاں پروگرام نہیں سنتیں وہ اجتماع گاہ میں آنے کی تکلیف ہی نہ کیا کریں۔بچیاں