خطابات مریم (جلد دوم) — Page 7
خطابات مریم 7 تحریرات قادر کریم ہستی کے حضور دست بدعا تھی کہ وہ اپنے رحم و کرم سے ہر لحاظ سے حافظ و ناصر ہو جس نے میرے آقا مصلح موعود جیسی ذات کو میرے متعلق حسن ظن عطا کیا۔یہ محض میرے آقا کی دعاؤں کی برکت ہے جو لجنہ اماءاللہ کی خدمت کا موقعہ مجھ حقیر کو ملا ور نہ میں تو ایک عاجز بشر ہوں اس کے ساتھ بے علم بھی۔لجنہ اماءاللہ کراچی بفضل خدا اس وقت ہر آن ترقی پر گامزن ہے جس کے تفصیلی حالات میں صحیح طور پر عرض نہیں کر سکتی۔کاش کہ اس وقت کراچی ہوتی۔( یہ خط بیگم چوہدری بشیر احمد صاحب نے مجھے ڈھاکہ سے لکھا تھا) اور لجنہ کراچی کے ریکارڈ سے معلومات بہم پہنچا سکتی۔سب سے پہلے میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کلمہ طیبہ پر ایمان لاتے ہوئے حضرت مصلح موعود کی برکت سے مستفیض ہوتے ہوئے اپنے محترم بھائی چوہدری عبداللہ خان صاحب مرحوم امیر جماعت احمد یہ کراچی کے درجات کی بلندی کیلئے دعا گو ہوں میرے محسن کی برادرانہ ذات نے ہر موقع پر مشفق و مونس بن کر کرم فرمایا جو لجنہ کراچی کی ترقی کیلئے بہت بڑی رحمت اور نعمت ثابت ہوا اُنہیں کے حُسن انتظام کی بنا پر بفضل خدا جماعت احمدیہ کراچی کے ہر ذمہ دار فرد نے صحیح رنگ میں تعاون فرمایا اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر دے۔وہ دن بہت بابرکت تھا جب لجنہ اماءاللہ کراچی کو دفتر بنانے کی توفیق ملی اور دفتر لجنہ کراچی کا افتتاح لجنہ اماءاللہ کی اقوال صدر مبارک ہستی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بڑی بہو حرم اؤل حضرت خلیفۃ اسیح الثانی اصلح الموعود حضرت اُم ناصر نے اپنے مبارک ہاتھوں سے فرمایا۔اللہ تعالیٰ فردوس بریں میں اعلیٰ مدارج نصیب کرے اور ہزاروں لاکھوں رحمتیں نازل فرمائے۔آمین۔لجنہ کراچی کے دفتر کے قیام پر جو ترقی عمل میں آئی ہے وہ دفتر کی ضرورت کا ثبوت ہے۔یہ خواہش اس عاجزہ کی دیرینہ تھی جو خدا کے فضل سے پوری ہوئی اور مفید ثابت ہوئی۔الحمد للہ دفتر کے ساتھ بلکہ اس سے پیشتر ہی جس ضرورت کو ایک بڑی لجنہ کے لئے محسوس کیا وہ عہد یداران کی معاونہ کی ضرورت تھی جس کا فرض ہو کہ وہ وقت پر دفتر کے کھولنے اور بند کرنے اور دیگر عائد کردہ احکام لجنہ مقامی کی پابندی کرے۔سو اُس رحمن و رحیم نے لجنہ کراچی کو تو فیق عطا کی کہ مکرمہ مجیدہ بیگم صاحبہ اس کام کے لئے مقرر ہوئیں جو آج تک اپنا فرض ادا کرتی چلی