خطابات مریم (جلد دوم) — Page 209
خطابات مریم 209 خطابات ایک اور بہت ضروری پروگرام جو لجنہ اماء اللہ کے سامنے ہمارے امام ایدہ اللہ تعالیٰ نے رکھا تھا اور بہت ہی تاکید کی تھی اور گزشتہ سال جلسہ سالانہ کے موقعہ پر بھی آپ نے اس سلسلہ میں بڑے زور دار الفاظ میں نصیحت فرمائی تھی وہ رسومات و بدعات کی بیخ کنی کرنا ہے۔آپ نے فرمایا تھا کہ:۔حضرت مصلح موعود نے جماعت میں اور خصوصاً جماعت کی مستورات میں ایک مہم جاری کی تھی اور اس نے بڑی کامیابی حاصل کی تھی اور وہ مہم یہ تھی کہ جماعت بد رسوم اور بُری عادتوں کو چھوڑ دے اور بے تکلف زندگی اور اسلامی زندگی گزارنے کی عادی ہو جائے ایک وقت جماعت پر ایسا آیا کہ حضورا اپنی کوششوں میں کامیاب ہوئے اور جماعت بد رسموں سے اور بد رسموں کے بد نتائج سے محفوظ ہو گئی لیکن اب پھر جماعت کا ایک حصہ اس طرف سے غفلت برت رہا ہے خصوصاً وہ لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے دنیوی مال یا دنیوی و جاہتیں عطا کی ہیں وہ بجائے اس کے کہ اپنے رب کے شکر گزار بندے بن کر اپنی زندگیوں کے دن گزار تے لوگوں کی خوشنودی کے حصول کی خاطر اور اس عزت کے لئے جو حقیقت میں ذلت سے بھی زیادہ ذلیل ہے اس دنیا کی عزت اور بد رسوم کی طرف ایک حد تک مائل ہو رہے ہیں یہ بک رسوم شادی بیاہ کے موقع پر بھی کی جاتی ہیں اور موت فوت کے موقعہ پر بھی ہمیں انہیں کلیۂ چھوڑنا پڑے گا ور نہ رسوم کے وہ طوق جو پہلے ہمارے گلوں میں پڑے ہوئے تھے بد رسوم اور بد عادتوں کی وہ بیٹیاں جو پہلے ہمارے پاؤں اور ہاتھوں میں تھیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا۔يَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالأَعْلَلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ (الاعراف: 158) وہ ہم اپنے ہاتھوں سے پھر واپس لا کر اپنے ہاتھوں اور پاؤں کو ان میں باندھ دیں گے اور ان طوقوں کو اپنے گلوں میں دوبارہ ڈال لیں گے پھر ہم ان راہوں پر کیسے دوڑیں گے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا کی ہم پر کھولی ہیں“۔(المصابیح صفحہ 32،31) حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کی اس قدر پُر در دنصیحت کے باوجود بہت سے