خطابات مریم (جلد دوم) — Page 203
خطابات مریم 203 خطابات بیداری پیدا ہو اور بے حسی دور ہو اور وہ بھی سرگرم عمل ہوسکیں۔شعبہ جات میں سے شعبہ ناصرات ، شعبہ مال اور شعبہ تعلیم میں ترقی کے آثار ہیں۔باقی بھی محنت تو کرتی ہیں لیکن اس کے نمایاں نتائج سامنے نہیں آتے۔شعبہ اشاعت نے اس سال حضرت خلیفۃ المسح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ابتدائے خلافت سے اب تک کی تقاریر کتابی شکل میں شائع کرنے کا انتظام کیا۔کا غذ اور چھپائی بہت مہنگی ہے لیکن اگر لجنات سب کتاب خرید لیں تو اس رقم سے اگلے سال ایک اور کتاب شائع کروائی جا سکتی ہے۔آئندہ سال انشاء اللہ الازھار کا تیسرا ایڈیشن شائع کروانا زیر غور ہے اور لجنہ لا ہور کی تاریخ بھی بشر طیکہ لجنہ لاہور کا مکمل تعاون حاصل ہو۔نیز حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے حالات زندگی کی اشاعت بھی زیر غور ہے۔میری عزیز بہنو! آپ میں سے اکثر اپنی لجنہ کی طرف سے نمائندہ بن کر یہاں آئی ہیں۔آپ کا فرض ہے کہ اپنا وقت ضائع نہ کریں۔پروگرام سنیں ، ہدایات کو نوٹ کریں تا آئندہ ان پر عمل کر سکیں اور بہترین مشورے آئندہ ترقی کیلئے دیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے۔وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَانَةٌ، فَلَوْا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةً لِيَتَفَقَهُوا في الدين وليُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا الَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ - (سورۃ التوبہ: 122) ترجمہ: اور مومنوں کے لئے ممکن نہ تھا کہ وہ سب کے سب ( اکٹھے ہو کر تعلیم دین کیلئے ) نکل پڑیں۔پس کیوں نہ ہوا کہ ان کی جماعت میں سے ایک گروہ نکل پڑتا تا کہ وہ دین پوری طرح سیکھتے اور اپنی قوم کو واپس لوٹ کر (بے دینی سے ) ہوشیار کرتے تا کہ وہ ( گمراہی سے ) ڈرنے لگیں۔یہ قرآنی طریق ہے کہ دین سیکھنے کی خاطر مرکز میں نمائندے آئیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی جماعتیں ہر جگہ موجود ہیں اور اسی طرح لجنات بھی کسی اجتماع پر بھی ساری احمدی خواتین کا آنا ممکن نہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق پر اس جماعت میں سے ایک منتخب گروہ ہی آ سکتا ہے۔یہ ایک نمائندہ بھی ہو سکتا ہے اور زیادہ بھی جس طرح چھپیں پر