خطابات مریم (جلد دوم) — Page 139
خطابات مریم 139 خطابات جاوے کہ وہ دین کی خادم ہو جیسے انسان کسی جگہ سے دوسری جگہ جانے کے واسطے سفر کے لئے سواری اور زادِ راہ کو ساتھ لیتا ہے تو اس کی اصل غرض منزل مقصود پر پہنچنا ہوتا ہے نہ خود سواری اور راستہ کی ضروریات اس طرح پر انسان دنیا کو حاصل کرے مگر دین کا خادم سمجھ کر۔اللہ تعالیٰ نے جو یہ دعا تعلیم فرمائی ہے کہ دینا اتنا في الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً (البقرة: 202) اس میں بھی دنیا کو مقدم کیا ہے۔لیکن کس دنیا کو؟ حَسَنَةٌ الدُّنیا کو جو آخرت میں حسنات کا موجب ہو جائے“۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 365،364) اسی طرح وقف کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔میں چونکہ خود تجربہ کار ہوں اور تجربہ کر چکا ہوں اور اس وقف کیلئے اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ جوش عطا فرمایا ہے کہ اگر مجھے یہ بھی کہہ دیا جاوے کہ اس وقف میں کوئی ثواب اور فائدہ نہیں ہے بلکہ تکلیف اور دکھ ہو گا تب بھی میں اسلام کی خدمت سے رُک نہیں سکتا۔اس لئے میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اپنی جماعت کو وصیت کروں اور یہ بات پہنچا دوں۔آئندہ ہر ایک کا اختیار ہے کہ وہ اسے سنے یا نہ سنے اگر کوئی نجات چاہتا ہے اور حیات طیبہ یا ابدی زندگی کا طلب گار ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے لئے اپنی زندگی وقف کرے اور ہر ایک اس کوشش اور فکر میں لگ جاوے کہ وہ اس درجہ اور مرتبہ کو حاصل کرے کہ کہہ سکے کہ میری زندگی، میری موت ، میری قربانیاں، میری نمازیں اللہ ہی کے لئے ہیں اور حضرت ابراہیم کی طرح اس کی رُوح بول اُٹھے أسْلَمْتُ يربّ العلمي (البقرة: 132) جب تک انسان خدا میں کھویا نہیں جاتا۔خدا میں ہو کر نہیں مرتا وہ نئی زندگی پا نہیں سکتا۔پس تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو تم دیکھتے ہو کہ خدا کے لئے زندگی کا وقف میں اپنی زندگی کی اصل غرض سمجھتا ہوں پھر تم اپنے اندر دیکھو کہ تم میں سے کتنے ہیں جو میرے اس فعل کو اپنے لئے پسند کرتے اور خدا کے لئے زندگی وقف کرنے کو عزیز رکھتے ہیں“۔(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 370)