خطابات مریم (جلد دوم) — Page 137
خطابات مریم 137 خطابات اے میری عزیز بہنو! یہ غرض تھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آنے کی تا آپ کے ماننے والوں کی زندگیوں میں ایک انقلاب عظیم پیدا ہو اور وہ اپنی روشنی چاروں طرف دنیا میں پھیلائیں۔اپنے عمل سے، اپنی قربانیوں سے، اپنی برکات سے، اپنی جدو جہد سے اپنے اعلیٰ اخلاق سے، اپنی محبت سے اپنے کردار سے ایک نمونہ بنیں۔اسلام کی اعلیٰ تعلیم کا نمونہ بنیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کا نمونہ بنیں۔آپ کے صحابہ اور صحابیات کا اور قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کا اور نمونہ بنیں اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اولین صحابہ کا۔مکمل اصلاح اور اپنے معاشرہ کو بُرائیوں سے محفوظ رکھنے کا تیسر ا گر حفظ ما تقدم ہے جس طرح و با سے بچنے کیلئے انسان اپنے آپ کو بھی ٹیکہ کرواتا ہے بچوں کو بھی کرواتا ہے اور اس کا بھی انتظام کرتا ہے کہ اردگرد کے لوگ ٹیکہ کروائیں۔بچوں کو اس جگہ جانے نہیں دیتا جہاں کوئی بیماری پھیلی ہوئی ہے۔یہی حال روحانی بیماریوں اور اخلاقی کمزوریوں کا ہوتا ہے۔آپ اپنے بچوں کو وہاں تو قدم بھی نہیں رکھنے دیں گی جہاں ہیضہ پھیلا ہے یا جہاں چیچک کا ڈر ہے یا اور کوئی متعدی بیماری پھیلی ہوئی ہے لیکن ان لوگوں سے بچانے کی کوشش نہیں کریں گی جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف نہ ہو۔قرآن مجید کی محبت نہ ہو ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کا کوئی شوق نہ ہو۔جو ناچ گانوں کے شوقین تو ہوں لیکن روزانہ قرآن مجید کا ایک رکوع پڑھنے کا خیال نہ ہو جو روپیہ کمانے کی فکر میں تو ہوں مگر قرآنی انوار سے جھولیاں بھرنے کی خواہش نہ ہو۔جو مذہب کیلئے غیرت نہ رکھتے ہوں بلکہ مذہب کو ترقی کی راہ میں روک سمجھتے ہوں لازمی بات ہے کہ صحبت کا اثر ضرور ہوتا ہے۔اسی لئے خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ کُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ (التوبة:119) سچوں اور صالحین کی صحبت سب سے بڑا گر ہے تربیت کا۔آپ اچھی سوسائٹی مہیا کریں اپنے بچوں کیلئے ناچ گانوں ، ناولوں ، تماشوں کی بجائے خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت ، اسلام کی محبت، وطن کی محبت، مذہب کے لئے غیرت، انسانی ہمدردی ، اعلیٰ اخلاق، سچائی، دیانتداری، انصاف، غریب پروری، شجاعت ، قناعت، دعا کرنے کی عادت ان کے اندر پیدا کریں تا وہ اس جذبہ کے ساتھ بڑھیں کہ اسلام کا جھنڈا ہمیشہ بلند رکھیں گے۔قوم وہی زندہ رہتی ہے جس کی ہر نسل اگلی نسل کی جگہ لینے اور پہلی نسل سے بڑھ کر قربانیاں دینے کو تیار رہے۔