خطابات مریم (جلد دوم) — Page 99
خطابات مریم تعلیم 99 خطابات القرآن کی اہمیت ہماری جماعت کی اکثریت دیہات میں ہے دیہات میں لجنات کی بھی کثرت ہے لیکن بہت سی لجنات صرف اس وجہ سے رپورٹ نہیں بھجوا سکتیں کہ لکھنا نہیں آتا۔حضرت مصلح موعود نے جب سے لجنہ اماء اللہ قائم فرمائی اپنی متعدد تقاریر میں اس بات پر زور دیا کہ ہر احمدی خاتون کو بچی ہو یا جوان یا بوڑھی کم از کم اُردو لکھنا پڑھنا اور قرآن مجید ناظرہ آنا چاہئے۔چنانچہ 1944ء کے جلسہ سالانہ پر آپ نے لجنہ اماءاللہ کے سامنے ایک واضح اور ٹھوس پروگرام رکھا تھا اور فرمایا تھا کہ :۔لجنہ اماءاللہ کا پہلا قدم یہ ہونا چاہئے کہ جب ان کی تنظیم ہو جائے تو جماعت کی تمام عورتوں کو لکھنا اور پڑھنا سکھا دے۔دوسرا قدم یہ ہونا چاہئے کہ نماز ، روزہ اور شریعت کے دوسرے موٹے موٹے احکام کے متعلق آسان اُردو زبان میں مسائل لکھ کر تمام عورتوں کو سکھا دئے جائیں اور پھر تیسرا قدم یہ ہونا چاہئے کہ ہر ایک عورت کو نماز کا ترجمہ یاد ہو جائے تاکہ ان کی نما ز طوطے کی طرح نہ ہو کہ وہ نماز پڑھ رہی ہوں مگران کو یہ علم نہ ہو کہ وہ نماز میں کیا کہہ رہی ہیں اور آخری اور اصل قدم یہ ہونا چاہئے کہ تمام عورتوں کو باترجمہ قرآن مجید آ جائے “۔(الازھار لذوات الخمار صفحہ 369) بے شک شہری جماعتوں میں اعلی تعلیم یافتہ خواتین بھی موجود ہیں لیکن دیہات میں کثرت سے ایسی خواتین ہیں جو ابھی تک اُردو لکھنا پڑھنا نہیں جانتیں۔پس دیہات سے آنے والی نمائندگان کا یہ فرض ہے کہ وہ یہاں سے جانے کے بعد ایسا پروگرام بنائیں کہ ایک سال کے اندراندران کے گاؤں کی ہر عورت اور ہر بچی اُردو لکھنا پڑھنا سیکھ لے یہ بالکل مشکل کام نہیں لیسرنا القرآن اور قرآن مجید صحیح پڑھنے کے ساتھ اُردو خود آ جاتی ہے۔لکھنے کی مشق چند دن کرنے سے معمولی لکھنا آ جاتا ہے۔سرور کائنات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تو کلام الہی ہی ان الفاظ میں نازل ہوا تھا۔اقْراً يا سُورَتِكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الانْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقرا وربك الأعرمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالقَلَمِن عَلَّمَ الإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْتُ (العلق : 2 تا 6 )